Report

India bat first, Suthar gets maiden Test cap – نیو چنڈی گڑھ ٹیسٹ

Avatar photo Yash Malhotra · · 1 min read

نیو چنڈی گڑھ میں کرکٹ کا نیا باب

نیو چنڈی گڑھ کے تاریخی میدان پر کھیلے جانے والے اس ٹیسٹ میچ نے کرکٹ شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان 2018 کے بعد یہ پہلا ٹیسٹ مقابلہ ہے۔ آئی پی ایل کے اختتام کے محض چھ دن بعد شروع ہونے والے اس میچ میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میچ کی سب سے خاص بات راجستھان سے تعلق رکھنے والے نوجوان آل راؤنڈر مانو ستھار کا ڈیبیو ہے، جنہیں ٹیم میں شامل کر کے ایک نیا تجربہ کیا گیا ہے۔

اسپن اٹیک میں بڑی تبدیلیاں

ایک طویل عرصے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت اپنی ہوم کنڈیشنز میں آر اشون اور رویندرا جڈیجہ کے بغیر میدان میں اترا ہے۔ اشون ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں جبکہ جڈیجہ کو آرام دیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں مانو ستھار کو لیفٹ آرم اسپنر کے طور پر ترجیح دی گئی ہے، جس نے ودربھ کے ہرش دوبے کو بینچ پر بٹھا دیا ہے۔ بھارتی اسپن اٹیک کی قیادت کلدیپ یادو کر رہے ہیں، جن کا ساتھ واشنگٹن سندر اور مانو ستھار دیں گے۔

ٹیم کے اہم کھلاڑی اور اعداد و شمار

بھارتی لائن اپ میں بی سائی سدرشن بدستور نمبر 3 پر اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ دیودت پڈیکل کو موقع نہیں مل سکا۔ وکٹ کیپر بلے باز ریشبھ پنت اس میچ کے ساتھ اپنے ٹیسٹ کیریئر کے 50 میچ مکمل کر رہے ہیں، جو ان کے لیے ایک سنگ میل ہے۔

افغانستان کی حکمت عملی

دوسری جانب افغانستان کی ٹیم اپنے نئے ہیڈ کوچ رچرڈ پائبس کی زیر نگرانی پہلا میچ کھیل رہی ہے۔ ٹیم میں اسپن آل راؤنڈر ننگیالیا خروٹے کو ٹیسٹ کیپ دی گئی ہے۔ افغانستان اس میچ میں اپنے اسٹار اسپنر راشد خان کے بغیر کھیل رہی ہے جو کمر کی انجری کے باعث ٹیم سے باہر ہیں، جبکہ ابراہیم زدران بھی ٹانگ کی انجری کی وجہ سے دستیاب نہیں ہیں۔

پچ اور موسم کا اثر

نیو چنڈی گڑھ پہلی بار ٹیسٹ میچ کی میزبانی کر رہا ہے۔ پچ کالی مٹی سے بنی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بلے بازوں کے لیے کافی سازگار ثابت ہوگی۔ تاہم، دوپہر کے وقت درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بھارتی کپتان شوبمن گل نے ٹاس کے موقع پر کہا کہ انہیں امید ہے کہ جیسے جیسے کھیل آگے بڑھے گا، پچ خشک ہونے کے ساتھ ساتھ اسپنرز کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگی۔

ٹیموں کا اعلان

بھارت: یشسوی جیسوال، کے ایل راہول، بی سائی سدرشن، شوبمن گل (کپتان)، ریشبھ پنت (وکٹ کیپر)، دھرو جریل، واشنگٹن سندر، مانو ستھار، کلدیپ یادو، محمد سراج، پرسیدھ کرشنا۔

افغانستان: صدیق اللہ اٹل، رحمان اللہ گرباز، عبد المالک، رحمت شاہ، حشمت اللہ شاہدی (کپتان)، افسر زازئی (وکٹ کیپر)، عظمت اللہ عمرزئی، شرف الدین اشرف، ننگیالیا خروٹے، ضیاء الرحمان، محمد سلیم۔

یہ مقابلہ دونوں ٹیموں کے لیے اہم ہے، جہاں ایک طرف بھارت اپنی ہوم کنڈیشنز میں تسلط برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا، وہیں افغانستان کی ٹیم تجربہ کار کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں ایک نئی شناخت بنانے کے لیے کوشاں ہے۔