Bangladesh Cricket

Mustafizur opens up on injury struggles after match-winning performance

Avatar photo Tanay Bhatt · · 1 min read

فاسٹ بولنگ کا کٹھن سفر اور مستفیض الرحمٰن کی ہمت

کرکٹ کی دنیا میں فاسٹ بولرز کا سفر ہمیشہ چوٹوں اور تکلیفوں سے عبارت ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر تیز گیند باز قبول کرتا ہے اور اسی تکلیف کے ساتھ اپنی کارکردگی کو اعلیٰ ترین سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بنگلہ دیش کے بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن اس جدوجہد کی ایک بہترین مثال ہیں۔

انجری کے باوجود شاندار واپسی

گزشتہ کچھ ہفتوں سے مستفیض الرحمٰن اپنی فٹنس کے مسائل سے دوچار تھے، تاہم میدان میں ان کی کارکردگی دیکھ کر کہیں سے بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ کسی قسم کے دباؤ یا زنگ آلود فارم کا شکار ہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف حالیہ سیریز میں انہوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ بنگلہ دیش کے سب سے قابل اعتماد بولرز میں سے ایک کیوں ہیں۔ 11 جون کو میرپور میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ میں ان کی کارکردگی نے بنگلہ دیش کو نہ صرف میچ بلکہ سیریز میں بھی فیصلہ کن برتری دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

آسٹریلیا کے خلاف تباہ کن اسپیل

آسٹریلیا کی اننگز کا آغاز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا، جہاں مہمان ٹیم بغیر کوئی رن بنائے اپنی تین اہم وکٹیں گنوا بیٹھی۔ ٹاسکن احمد نے پہلے ہی اوور میں میتھیو شارٹ کو پویلین کی راہ دکھائی، جس کے فوراً بعد مستفیض الرحمٰن نے اگلے ہی اوور میں جادوئی بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کوپر کونولی اور میٹ رینشا کو بغیر کوئی رن دیے آؤٹ کر کے آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ کی کمر توڑ دی۔

مستفیض نے اپنے سات اوورز میں 27 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں، جن میں دو میڈن اوورز بھی شامل تھے۔ ان کی اس تباہ کن بولنگ کی بدولت بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو کم اسکور پر محدود رکھا اور بالآخر پانچ وکٹوں سے میچ اپنے نام کیا۔ اس کارکردگی پر انہیں ‘پلیئر آف دی میچ’ کے اعزاز سے نوازا گیا۔

تکلیف کھیل کا حصہ ہے

میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے مستفیض نے اپنی حکمت عملی پر بات کی: “میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ نئی گیند کے ساتھ سوئنگ حاصل کروں۔ عام طور پر میں پرانی گیند کے ساتھ بولنگ کرنا زیادہ پسند کرتا ہوں، لیکن جب ٹیم کو میری ضرورت پڑی، تو میں نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہترین کوشش کی۔”

جب ان سے ان کی جسمانی حالت اور حالیہ انجری کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو مستفیض نے مسکراتے ہوئے ایک حقیقت پسندانہ جواب دیا۔ انہوں نے کہا، “فٹنس بالکل ٹھیک ہے۔ فاسٹ بولرز کے لیے درد ہمیشہ موجود رہتا ہے، لیکن یہ اس کھیل کا ایک لازمی حصہ ہے۔”

نتیجہ

مستفیض الرحمٰن کا یہ رویہ نہ صرف ان کی ذہنی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ کیسے مصائب کے باوجود اپنی ٹیم کے لیے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایک فاسٹ بولر کے لیے درد کو پسِ پشت ڈال کر اپنی ٹیم کے لیے فتح کا ہدف مقرر کرنا ہی اسے ایک عظیم کھلاڑی بناتا ہے۔ بنگلہ دیشی شائقین کے لیے یہ فتح یقیناً یادگار رہے گی اور مستفیض کی یہ ہمت آنے والے میچوں میں بھی ٹیم کے لیے حوصلے کا باعث بنے گی۔