Bangladesh Cricket

“We are performing like a top-three pace attack” – Taskin Ahmed: بنگلہ دیشی فاسٹ بولنگ کا عروج

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

بنگلہ دیش کے مایہ ناز اور تجربہ کار فاسٹ بولر تسکین احمد نے بنگلہ دیشی تیز گیند بازی کے شعبے میں آنے والی حالیہ انقلابی تبدیلیوں پر گہرے فخر کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بنگلہ دیشی تیز گیند بازوں نے حالیہ برسوں میں جس تسلسل اور مہارت کے ساتھ پرفارم کیا ہے، وہ انہیں دنیا کے بہترین باؤلنگ اٹیکس کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے۔ تسکین کے مطابق، موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بالکل غلط نہ ہوگا کہ “We are performing like a top-three pace attack” – Taskin Ahmed نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ ان کی ٹیم دنیا کی چوٹی کی تین فاسٹ بولنگ ٹیموں کی طرح کھیل پیش کر رہی ہے۔ حالیہ چند سیریز میں بنگلہ دیش کے تیز گیند بازوں نے ناصرف ہوم گراؤنڈز پر بلکہ غیر ملکی پچوں پر بھی حریف بلے بازوں کو ناکوں چنے چبوائے ہیں، جو کہ ان کی زبردست ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بنگلہ دیشی پیس اٹیک کا نیا دور اور تسکین احمد کا سفر

بنگلہ دیشی کرکٹ کی تاریخ میں ایک طویل عرصے تک اسپنرز کا راج رہا ہے۔ جب بھی ہوم گراؤنڈ پر میچز ہوتے تھے، تو اسپن بولنگ کے سازگار حالات تیار کیے جاتے تھے، لیکن کورونا وبا (COVID-19) کے بعد جب بین الاقوامی کرکٹ دوبارہ بحال ہوئی، تو بنگلہ دیشی ٹیم کی حکمت عملی میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ ماضی میں بنگلہ دیش کو عام طور پر ایک ایسی ٹیم سمجھا جاتا تھا جو صرف اپنے اسپنرز پر انحصار کرتی تھی، لیکن حالیہ چند سالوں میں بنگلہ دیش نے اپنے تیز گیند بازوں کی بدولت دنیا بھر میں فتوحات حاصل کی ہیں۔ تسکین احمد خود اس انقلاب کا ایک اہم حصہ رہے ہیں اور انہوں نے اس تبدیلی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔

انہوں نے اپنی فٹنس اور بولنگ کی رفتار پر سخت محنت کی ہے جس کی وجہ سے وہ بنگلہ دیش کے پیس اٹیک کے اہم قائد بن کر ابھرے ہیں۔ تسکین کا کہنا ہے کہ یہ بہتری راتوں رات نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم منصوبہ بندی اور کھلاڑیوں کی کڑی محنت کارفرما ہے۔ وبا کے بعد جب ایک نیا گروپ تشکیل دیا گیا، تو اس کا بنیادی مقصد تیز گیند بازوں کی مناسب دیکھ بھال کرنا، ان کی فٹنس کو مانیٹر کرنا اور ان کے کام کے بوجھ (Workload) کو منظم کرنا تھا۔ آج اس محنت کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ٹیم کے پاس چار سے پانچ ایسے فاسٹ بولرز موجود ہیں جو مستقل بنیادوں پر 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے گیند بازی کر رہے ہیں اور آنے والے وقتوں میں مزید باصلاحیت بولرز سامنے آئیں گے۔

بیک وقت کئی ورلڈ کلاس بولرز اور بینچ اسٹرینتھ کی مضبوطی

بنگلہ دیشی تیز گیند بازی کے موجودہ اسکواڈ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اب ٹیم کے پاس بہترین متبادل کھلاڑی بھی دستیاب ہیں۔ ایک وقت تھا جب بنگلہ دیش کو کسی ایک اہم بولر جیسے تسکین یا مستفیض کے زخمی ہونے پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔ تسکین احمد اس بات پر بے حد پرجوش ہیں کہ اب ان کی ٹیم میں اس قدر گہرائی آچکی ہے کہ بہترین فارم میں ہونے کے باوجود بعض اوقات کچھ اچھے گیند بازوں کو روٹیشن پالیسی کے تحت آرام دیا جاتا ہے، اور ان کی جگہ آنے والا کھلاڑی بھی اسی معیار کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ “ہمارا ہر گیند باز سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ ہم مسلسل نئی چیزیں سیکھ رہے ہیں اور خود کو حالات کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ اگرچہ ہمیں ابھی ایک لمبا سفر طے کرنا ہے، لیکن ہماری یہ بتدریج ترقی انتہائی حوصلہ افزا ہے۔” اس صحت مند مقابلے کی وجہ سے ہر کھلاڑی اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کا براہ راست فائدہ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو مل رہا ہے اور وہ میدان میں ایک جارحانہ انداز اپنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ناهید رانا کی طوفانی بولنگ اور عالمی بلے بازوں کا خوف

کئی سالوں تک تسکین احمد اور مستفیض الرحمان ہی بنگلہ دیشی تیز گیند بازی کا چہرہ سمجھے جاتے تھے۔ مستفیض اپنی نپی تلی لائن و لینتھ اور زبردست کٹرز کی وجہ سے ہمیشہ ٹیم کے ایک قابل اعتماد اثاثہ رہے ہیں، لیکن اب منظرنامہ مزید دلچسپ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں ابھرنے والے نوجوان تیز گیند باز ناہید رانا نے اپنی غیر معمولی رفتار اور خطرناک باؤنس سے دنیا بھر کے کرکٹ ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ تسکین احمد نوجوان ناہید رانا کی کارکردگی اور ان کی صلاحیتوں سے بے حد متاثر دکھائی دیتے ہیں اور انہیں بنگلہ دیشی کرکٹ کا روشن مستقبل قرار دیتے ہیں۔

تسکین نے ناہید رانا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “جب بھی ٹیمیں بیرون ملک کا دورہ کرتی ہیں، تو حریف بلے باز ہمیشہ کسی ایسے ایکسپریس فاسٹ بولر سے خوفزدہ ہوتے ہیں جو غیر معمولی رفتار سے گیند بازی کر سکے۔ ناہید رانا ہمارے لیے ایک بہترین اثاثہ اور ملک کا فخر ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا کی مضبوط ترین بیٹنگ لائن اپس میں سے ایک، آسٹریلیا کے بلے باز بھی ناہید رانا کی تیز رفتار گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے کافی پریشان اور بے بس دکھائی دیے جو کہ بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک شاندار اور فخر کا لمحہ ہے۔

حریف ٹیموں کے لیے نئی حکمت عملی اور پچوں کا چیلنج

ماضی میں جب بھی غیر ملکی ٹیمیں اپنے ہوم گراؤنڈز پر بنگلہ دیش کی میزبانی کرتی تھیں، تو وہ عام طور پر سبز اور تیز پچیں تیار کرتی تھیں تاکہ بنگلہ دیشی بلے بازوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تاہم، اب بنگلہ دیش کے پاس بھی ایسا پیس اٹیک موجود ہے جو کسی بھی پچ پر حریف ٹیم کو پچھاڑ سکتا ہے۔ تسکین احمد کا ماننا ہے کہ اب دنیا کی بڑی ٹیمیں بنگلہ دیش کے خلاف گرین وکٹیں بنانے سے پہلے دو بار ضرور سوچیں گی کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اب بنگلہ دیش کا پیس اٹیک ان کی اپنی ہی پچوں پر ان کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ “آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ حریف ٹیم کس قسم کی وکٹ تیار کرے گی، لیکن ہمارے بولنگ گروپ میں اب ہر طرح کی ورائٹی اور مہارت موجود ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں، ہمارے پاس خود کو ڈھالنے کی پوری صلاحیت ہے۔ مجھے امید ہے کہ تمام بولرز فٹ رہیں گے اور اپنی فارم کو برقرار رکھیں گے۔ اب دوسری ٹیمیں ہمارے خلاف گھاس والی پچیں بنانے سے پہلے احتیاط برتیں گی کیونکہ ہمارا پیس اٹیک کسی بھی بیٹنگ لائن اپ کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔”

مستقبل کے لیے فاسٹ بولنگ کلچر کا قیام

تسکین احمد کے مطابق، سب سے زیادہ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ اب ٹیم کسی ایک کھلاڑی پر انحصار نہیں کرتی۔ جب کوئی ایک بولر آؤٹ آف فارم ہوتا ہے یا دباؤ میں ہوتا ہے، تو کوئی دوسرا کھلاڑی آگے بڑھ کر ذمہ داری سنبھال لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ ایک بہترین احساس ہے کہ پوری بولنگ یونٹ مل کر ترقی کر رہی ہے۔ ایک دن ہم سب نے ریٹائر ہو جانا ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں فاسٹ بولنگ کا یہ بہترین کلچر ہمیشہ قائم رہے اور ٹیم آگے بڑھتی رہے۔”

مستفیض الرحمان کے تجربے، تسکین کی لگن اور ناہید رانا کی رفتار کا امتزاج بنگلہ دیشی کرکٹ کو نئی بلندیوں پر لے جا رہا ہے۔ عالمی کرکٹ کی دنیا میں بنگلہ دیشی تیز گیند بازوں کی کارکردگی پر بحث ہونا ہی اس انقلاب کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ تسکین پرامید ہیں کہ نوجوان کھلاڑی اس تسلسل کو برقرار رکھیں گے اور بنگلہ دیش کا نام دنیا بھر میں فخر سے بلند کرتے رہیں گے۔