Cricket News

Yastika Bhatia Retired Out, Then Slammed By Harmanpreet Kaur: بھارتی ٹیم کی شکست اور کپتان کا بڑا فیصلہ

Avatar photo Yash Malhotra · · 1 min read

یاستیکا بھاٹیا کا ‘ریٹائرڈ آؤٹ’ ہونا اور ہرمن پریت کور کا سخت ردعمل

برسٹل میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں ایک ایسا لمحہ دیکھنے کو ملا جس نے کرکٹ شائقین اور ماہرین کو حیران کر دیا۔ جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ٹیمیں میچ جیتنے کے لیے نت نئی حکمت عملیوں کا استعمال کر رہی ہیں، اور ایسا ہی ایک تجربہ بھارتی ویمن ٹیم نے بھی کیا۔ تاہم، یہ تجربہ اس وقت بحث کا موضوع بن گیا جب Yastika Bhatia Retired Out, Then Slammed By Harmanpreet Kaur کا واقعہ سامنے آیا۔ بھارتی وکٹ کیپر بیٹر یاستیکا بھاٹیا کو سست بیٹنگ کی وجہ سے کریز سے واپس بلا لیا گیا، جس کے بعد کپتان ہرمن پریت کور نے ان کی کارکردگی پر کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

انگلینڈ کی شاندار واپسی اور فرییا کیمپ کی طوفانی اننگز

سیریز کے پہلے میچ میں بھارت کے ہاتھوں 38 رنز کی شکست کے بعد انگلینڈ کی ٹیم پر شدید دباؤ تھا۔ دوسرے میچ میں ٹاس ہارنے کے بعد جب انگلش ٹیم پہلے بیٹنگ کرنے میدان میں اتری تو بھارتی بولرز نے ان پر دباؤ برقرار رکھا۔ انگلینڈ کی اننگز کا پہلا ہاف کافی سست رہا اور ایسا لگ رہا تھا کہ ٹیم بڑا اسکور بنانے میں ناکام رہے گی۔ لیکن 16.3 اوورز میں جب انگلینڈ کا اسکور 116 رنز پر 4 وکٹیں تھا، تو فرییا کیمپ (Freya Kemp) نے کریز سنبھالی۔

فرییا کیمپ نے صرف 13 گیندوں پر 4 چوکوں اور 2 شاندار چھکوں کی مدد سے 39 رنز کی ناقابل شکست اور جارحانہ اننگز کھیلی۔ ان کی اس برق رفتار بیٹنگ کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم ایک چیلنجنگ ٹوٹل یعنی 168 رنز بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ بھارت کی جانب سے شری چرانی (Sree Charani) سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئیں جنہوں نے اپنے کوٹے کے 4 اوورز میں 25 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں، جبکہ نندنی شرما اور شرینکا پاٹل نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

بھارتی اننگز کا آغاز اور یاستیکا بھاٹیا کی جدوجہد

169 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارتی اوپنرز نے ٹیم کو تیز آغاز فراہم کیا۔ نوجوان بیٹر شفالی ورما نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 14 گیندوں پر 22 رنز بنائے، لیکن وہ تیسرے اوور کے اختتام پر پویلین لوٹ گئیں۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد اسٹار بیٹر اسمرتی مندھانا نے یاستیکا بھاٹیا کے ساتھ مل کر اننگز کو آگے بڑھایا اور دونوں کے درمیان 43 رنز کی قیمتی شراکت داری قائم ہوئی۔ اسمرتی مندھانا 8.6 اوورز میں 70 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوئیں۔

اس وقت بھارت کو جیت کے لیے 66 گیندوں پر 99 رنز درکار تھے، جو کہ ایک مناسب ہدف تھا۔ تاہم، یاستیکا بھاٹیا، جو طویل عرصے بعد انجری سے صحت یاب ہو کر ٹیم میں واپس آئی تھیں، اس میچ میں بالکل بھی رنگ میں نظر نہیں آئیں۔ پہلے میچ میں شاندار نصف سنچری اسکور کرنے والی یاستیکا اس بار گیند کو مڈل کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی دکھائی دیں۔ 15 اوورز کے اختتام پر وہ 36 گیندوں پر صرف 33 رنز بنا سکیں، جس کی وجہ سے مطلوبہ رن ریٹ کا دباؤ مسلسل بڑھتا گیا۔

یاستیکا بھاٹیا کو ریٹائرڈ آؤٹ کرنے کا تاریخی فیصلہ

رن ریٹ کو قابو میں رکھنے کے لیے بھارتی ٹیم مینجمنٹ نے ایک جرات مندانہ اور غیر روایتی فیصلہ کیا۔ انہوں نے یاستیکا بھاٹیا کو “ریٹائرڈ آؤٹ” کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ جمیما روڈریگز کو کریز پر بھیجا جا سکے، جنہوں نے پچھلے میچ میں تیز رنز بنائے تھے۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں یہ قانون اب رفتہ رفتہ مقبول ہو رہا ہے، جہاں ٹیمیں سست رفتاری سے کھیلنے والے بلے باز کو رضاکارانہ طور پر واپس بلا لیتی ہیں۔

تاہم، بھارت کی یہ حکمت عملی کارگر ثابت نہ ہو سکی۔ جمیما روڈریگز صرف 2 گیندوں کا سامنا کر کے محض 1 رن بنا کر آؤٹ ہو گئیں۔ اس فیصلے کے ناکام ہونے کے بعد کپتان ہرمن پریت کور نے پوسٹ میچ انٹرویو میں یاستیکا بھاٹیا کی اننگز پر مایوسی کا اظہار کیا۔

کپتان ہرمن پریت کور کا پوسٹ میچ بیان

کپتان ہرمن پریت کور نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا: “بدقسمتی سے، وہ [یاستیکا] گیند کو صحیح طریقے سے ہٹ نہیں کر پا رہی تھیں، اور ہمیں لگا کہ جمیما، جنہوں نے گزشتہ میچ میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی، ٹیم کے لیے بہتر ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا، لیکن بدقسمتی سے یہ ہمارے حق میں نہیں رہا۔”

خود کپتان ہرمن پریت کور بھی اس میچ میں ٹیم کو فتح دلانے میں ناکام رہیں اور طویل انجری کے بعد واپسی پر 22 گیندوں پر 28 رنز بنا کر چارلی ڈین کا شکار بن گئیں۔ بھارتی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹیں کھو کر صرف 142 رنز بنا سکی اور انگلینڈ نے یہ میچ 27 رنز سے جیت کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ انگلینڈ کی جانب سے لورین بیل، چارلی ڈین اور فرییا کیمپ نے دو دو وکٹیں حاصل کیں ہیں۔

ٹانٹن کا فیصلہ کن معرکہ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریاں

اب سیریز کا تیسرا اور فیصلہ کن میچ ٹانٹن (Taunton) میں کھیلا جائے گا، جہاں دونوں ٹیمیں سیریز اپنے نام کرنے کے لیے میدان میں اتریں گی۔ یہ میچ بھارتی ٹیم کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل یہ ان کا آخری باضابطہ میچ ہوگا۔ حال ہی میں ون ڈے ورلڈ کپ جیتنے کے بعد بھارتی ٹیم سے شائقین کی توقعات بہت زیادہ ہیں، اور اس فائنل میچ میں ان کی کارکردگی ٹیم کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اس فیصلہ کن میچ کے بعد، بھارتی ٹیم کو ایک مختصر بریک ملے گا، جس کے بعد وہ 8 جون کو کارڈف میں ویسٹ انڈیز کے خلاف وارم-اپ میچ کھیل کر اپنی عالمی مہم کا آغاز کرے گی۔ یاستیکا بھاٹیا کے اس واقعے اور کپتان کے بیان کے بعد اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ فائنل میچ میں بھارت کس پلیئنگ الیون اور کس حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترتا ہے۔