Virat Kohli Turns To Social Media After RCB’s Heroic IPL Double
آر سی بی کی تاریخی جیت: وراٹ کوہلی کا شاندار کردار
احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے آئی پی ایل 2026 کے فائنل میں وراٹ کوہلی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ بڑے میچوں میں دباؤ کو کیسے سنبھالا جاتا ہے۔ انہوں نے 42 گیندوں پر ناقابل شکست 75 رنز بنا کر رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کو مسلسل دوسری بار چیمپئن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مسلسل دو بار ٹائٹل جیتنے کا کارنامہ
آئی پی ایل جیسی مسابقتی لیگ میں لگاتار دو بار ٹائٹل جیتنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس سے قبل صرف ممبئی انڈینز (MI) اور چنئی سپر کنگز (CSK) ہی یہ اعزاز حاصل کر سکی تھیں۔ ایم ایس دھونی کی قیادت میں سی ایس کے نے 2010 اور 2011 میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا، جبکہ روہت شرما کی قیادت میں ممبئی انڈینز نے 2019 اور 2020 میں کامیابی حاصل کی۔ اب رجت پاٹیدار کی قیادت میں آر سی بی یہ ریکارڈ برابر کرنے والی تیسری ٹیم بن گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وراٹ کوہلی کا ردعمل
وراٹ کوہلی، جو آج کل سوشل میڈیا پر زیادہ فعال نہیں رہتے، نے اپنی ٹیم کی اس بڑی جیت کے بعد خاموشی توڑ دی۔ 37 سالہ بلے باز نے ان تمام ناقدین کو جواب دیا جنہوں نے ٹیم کی صلاحیتوں پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا: ‘ہم نے پچھلے سال خود سے ایک سوال پوچھا تھا – کیا ہم لگاتار دو بار جیت سکتے ہیں؟ اور آج ہم یہاں دوبارہ کھڑے ہیں۔’
چیز ماسٹر کا مشن
فائنل میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف 156 رنز کا ہدف حاصل کرنا آر سی بی کے لیے بظاہر آسان تھا، لیکن ٹیم کی شروعات اچھی نہیں رہی۔ دیودت پڈیکل، کرونل پانڈیا اور کپتان رجت پاٹیدار جلد آؤٹ ہو گئے تھے۔ ایسے میں وراٹ کوہلی نے ذمہ داری سنبھالی اور 9 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے ٹیم کو دو اوورز قبل ہی جیت سے ہمکنار کر دیا۔
مستقبل کے منصوبے اور فٹنس
آئی پی ایل فائنل کے دوران کوہلی کو کچھ دیر کے لیے تکلیف محسوس کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں اور کسی قسم کی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ اب شائقین انہیں افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں ایکشن میں دیکھیں گے۔ افغانستان کا دورہ بھارت 6 جون سے شروع ہو رہا ہے، جبکہ ون ڈے میچز 13، 17 اور 20 جون کو دھرم شالہ، لکھنؤ اور چنئی میں کھیلے جائیں گے۔
نتیجہ
آر سی بی کی اس جیت نے ثابت کر دیا ہے کہ وراٹ کوہلی کی موجودگی میں ٹیم کسی بھی مشکل صورتحال سے نکلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک ‘چیز ماسٹر’ کے طور پر ان کی کارکردگی نہ صرف ٹیم کے لیے بلکہ کرکٹ کے مداحوں کے لیے بھی ایک مثال ہے۔ کوہلی کی یہ کامیابی ان کی لگن اور کرکٹ کے تئیں ان کی اٹوٹ وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔