Cricket News

When Ajinkya Rahane Accused Credit Stealing After India’s Historic BGT Win – بھارتی کرکٹ کا بڑا تنازعہ

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

بارڈر-گاوسکر ٹرافی کی تاریخی فتح اور اجنکیا رہانے کی قیادت

بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں سال 2021 کے آغاز میں آسٹریلیا کے خلاف حاصل کی گئی بارڈر-گاوسکر ٹرافی (BGT) کی فتح کو ہمیشہ ایک معجزہ تصور کیا جائے گا۔ اس تاریخی سیریز میں بھارتی ٹیم کو باقاعدہ کپتان ویرات کوہلی کی خدمات حاصل نہیں تھیں، جو ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد اپنے بچے کی پیدائش کے سلسلے میں بھارت واپس روانہ ہو گئے تھے۔ اس پہلے ٹیسٹ میچ میں بھارت کو دوسری اننگز میں محض 36 رنز پر ڈھیر ہو کر ایک انتہائی مایوس کن اور شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایسی نازک صورتحال میں تجربہ کار مڈل آرڈر بلے باز اجنکیا رہانے کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی، جنہوں نے ناصرف ٹیم کا حوصلہ بلند کیا بلکہ ایک یادگار واپسی کی بنیاد بھی رکھی۔

جب اجنکیا رہانے نے کریڈٹ چرانے کا الزام لگایا

اس تاریخی اور یادگار فتح کے چند ماہ بعد ہی بھارتی کرکٹ حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب اجنکیا رہانے نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اس فتح کا وہ کریڈٹ نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار تھے۔ ‘بیک اسٹیج ود بوریا’ (Backstage with Boria) کے ایک خصوصی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے رہانے نے کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ یہ وہی وقت تھا When Ajinkya Rahane Accused Credit Stealing After India’s Historic BGT Win اور انہوں نے واضح کیا کہ میدان میں لیے گئے ان کے فیصلوں کا سہرا میڈیا میں کسی اور کے سر سجایا گیا۔

انٹرویو کے دوران اجنکیا رہانے کا کہنا تھا: “میں جانتا ہوں کہ میں نے وہاں کیا کارنامہ انجام دیا۔ مجھے کسی کو بتانے یا جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ میری فطرت میں شامل نہیں ہے کہ میں خود جا کر اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ لوں۔ ہاں، کچھ فیصلے ایسے تھے جو میں نے میدان میں یا ڈریسنگ روم میں لیے تھے، لیکن کسی اور نے ان کا کریڈٹ اپنے نام کر لیا۔” انہوں نے مزید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیریز کے بعد لوگوں کے ردعمل اور میڈیا میں کیے جانے والے دعوے جیسے ‘میں نے یہ کیا’ یا ‘یہ میرا فیصلہ تھا’، وہ ان لوگوں کی اپنی سوچ تھی جو سستی شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے۔

روی چندرن اشون کا انکشاف اور روہت شرما کا کردار

اجنکیا رہانے کے ان چار سال پرانے بیانات کی بازگشت حال ہی میں انٹرنیٹ پر ایک بار پھر سنائی دی، جب بھارتی ٹیم کے مایہ ناز اسپنر روی چندرن اشون نے گابا ٹیسٹ کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف کیا۔ اشون نے بالواسطہ طور پر رشبھ پنت کی تاریخی اور جارحانہ اننگز کا سہرا اس وقت کے اوپنر روہت شرما کے سر باندھا۔ اشون کے اس بیان نے رہانے کے ان دعوؤں کو مزید تقویت دی کہ کس طرح ٹیم کے اندر فیصلوں کے کریڈٹ کی تقسیم پر اختلافات موجود تھے۔

ای ایس پی این کرک انفو (ESPNCricinfo) کے ایک ایوارڈ شو میں بات کرتے ہوئے روی چندرن اشون نے انکشاف کیا کہ گابا ٹیسٹ کے آخری دن جب بھارت کو فتح کے لیے 328 رنز کا بڑا ہدف حاصل کرنا تھا، تو اس وقت کے ہیڈ کوچ روی شاستری میچ ڈرا کرنے کے حق میں تھے۔ دوسری طرف، روہت شرما چاہتے تھے کہ رشبھ پنت کو ہدف کا پیچھا کرنے کے لیے بھیجا جائے اور میچ جیتنے کی کوشش کی جائے۔

اشون نے بتایا: “ایک طرف ہمارے پاس موسم کی خراب صورتحال کی اپ ڈیٹس آ رہی تھیں اور دوسری طرف روی بھائی (روی شاستری) کے فیصلوں میں اتار چڑھاؤ چل رہا تھا۔ یہی ٹیسٹ کرکٹ کی خوبصورتی ہے۔ کھیل کے آخری حصے میں روہت چاہتے تھے کہ رشبھ پنت جیت کے لیے جائیں، جبکہ روی بھائی میچ کو ڈرا کرنے کی حکمت عملی پر بضد تھے۔ یہ کشمکش اگلے دو گھنٹے تک جاری رہی اور بالآخر ہم نے ایک یادگار ترین میچ اپنے نام کیا۔”

گابا ٹیسٹ کی تاریخی فتح کا تفصیلی سفر

اس تاریخی ٹیسٹ سیریز کے آخری میچ میں بھارت کو فتح کے لیے آخری دن 328 رنز کا ریکارڈ ہدف درکار تھا۔ گابا کے میدان پر آسٹریلیا کا ریکارڈ ناقابل شکست تصور کیا جاتا تھا، جہاں انہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں ہارا تھا۔ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے بھارت کی شروعات اچھی نہ رہی اور روہت شرما محض 7 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ لیکن اس کے بعد نوجوان بلے باز شبمن گل اور وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت نے شاندار نصف سنچریاں اسکور کر کے بھارتی اننگز کو سنبھالا۔

اس دوران چتیشور پجارا نے ایک بار پھر اپنی روایتی مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور آسٹریلوی فاسٹ بولرز کے تیز رفتار باؤنسرز کو اپنے جسم پر جھیلا۔ کپتان اجنکیا رہانے نے خود بھی ایک اہم اور جارحانہ اننگز کھیلی، جہاں انہوں نے صرف 22 گیندوں پر 24 رنز بنا کر ٹیم کے ارادوں کو واضح کیا کہ بھارت میچ ڈرا کرنے نہیں بلکہ جیتنے کے لیے کھیل رہا ہے۔ بالاخر رشبھ پنت کی ناقابل شکست اننگز کی بدولت بھارت نے میچ ختم ہونے سے چند منٹ قبل ہی 3 وکٹوں سے تاریخی فتح حاصل کر لی۔

اجنکیا رہانے کی قیادت کے اہم سنگ میل

اگر ہم اس پوری سیریز پر نظر ڈالیں تو اجنکیا رہانے کی قیادت کے چند اہم ترین لمحات درج ذیل ہیں:

  • میلبرن ٹیسٹ (MCG) میں شاندار واپسی: ایڈیلیڈ کی عبرتناک شکست کے بعد رہانے نے میلبرن میں اپنی کپتانی اور شاندار سنچری کی بدولت ٹیم کو 8 وکٹوں سے فتح دلائی اور سیریز 1-1 سے برابر کی۔
  • سڈنی ٹیسٹ (SCG) کا تاریخی ڈرا: روی چندرن اشون اور ہنوما وہاری کی پانچویں دن کی طویل اور اعصاب شکن شراکت داری نے آسٹریلیا کے یقینی فتح کے خواب کو چکنا چور کر دیا اور میچ ڈرا پر ختم ہوا۔
  • گابا (Gabba) میں ریکارڈ ہدف کا تعاقب: آخری ٹیسٹ میچ میں 328 رنز کا تاریخی ہدف کامیابی سے حاصل کر کے بھارت نے بارڈر-گاوسکر ٹرافی اپنے پاس برقرار رکھی۔

اجنکیا رہانے کے بیانات اور روی چندرن اشون کے حالیہ انکشافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس تاریخی فتح کے پیچھے ڈریسنگ روم کی سیاست اور کریڈٹ حاصل کرنے کی جنگ کتنی گہری تھی۔ رہانے کی خاموش اور پروقار طبیعت نے انہیں اپنے حق کے لیے زیادہ آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دی، لیکن ان کا یہ شکوہ ہمیشہ کرکٹ کی تاریخ کے صفحات میں درج رہے گا۔