Report

Austin’s power not enough to break Bears’ losing streak – وائٹیلٹی بلاسٹ میں بیئرز کی ہار کا سلسلہ جاری: آسٹن کی طاقت بیئرز کی ہار کا سلسلہ توڑنے کے لیے کافی نہیں تھی

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

دی بلیز نے واروکشائر کو 11 رنز سے شکست دی، آسٹن کی شاندار کارکردگی رائیگاں

وائٹیلٹی بلاسٹ خواتین کے مقابلے میں ٹرینٹ برج کے میدان پر ایک دلچسپ مقابلے کا اختتام ہوا۔ جہاں دی بلیز نے 151 رنز کے ہدف کا دفاع کرتے ہوئے واروکشائر کو 11 رنز سے شکست دے کر اپنی مسلسل چوتھی فتح حاصل کی۔ اس میچ کا نمایاں پہلو واروکشائر کی اوپنر میگ آسٹن کی کیریئر کی بہترین 74 رنز کی شاندار اننگز تھی، جو سات چوکوں اور تین چھکوں سے مزین تھی۔ تاہم، ان کی یہ طاقتور اننگز بھی اپنی ٹیم کو شکست کے بھنور سے نکالنے میں ناکام رہی۔ واروکشائر کی ٹیم 140 رنز پر 5 وکٹوں کے نقصان پر اپنی اننگز مکمل کر سکی، اور اس طرح انہیں ٹورنامنٹ میں اپنی مسلسل پانچویں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

دی بلیز کی مضبوط بیٹنگ اور پھر سنبھل کر واپسی

دی بلیز کی اننگز کا آغاز کافی جارحانہ رہا، کپتان میری کیلی نے 22 گیندوں پر 29 رنز بنا کر ٹیم کو پاور پلے میں 61 رنز تک پہنچایا۔ انہوں نے پانچ شاندار چوکے لگائے اور اپنی ٹیم کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ تاہم، میری ٹیلر کی ایک گیند پر وہ بولڈ ہو کر پویلین لوٹ گئیں۔ واروکشائر کے باؤلرز نے اس مرحلے پر اضافی رنز کی صورت میں کچھ مدد فراہم کی، جہاں 13 وائڈز نے دی بلیز کے سکور میں اضافہ کیا۔

پاور پلے کے بعد واروکشائر کے اسپنرز نے میچ کا نقشہ بدلنا شروع کیا۔ جارجیا ڈیوس اور ہنا بیکر نے اگلے پانچ اوورز میں دو، دو وکٹیں حاصل کر کے دی بلیز کی بیٹنگ لائن کو شدید دھچکا پہنچایا۔ دی بلیز کی ٹیم بغیر کسی نقصان کے 52 رنز سے 78 رنز پر 5 وکٹوں کے نقصان تک پہنچ گئی۔ لیگ اسپنر بیکر نے ٹیمی بیومونٹ کو سویپ شاٹ کھیلتے ہوئے بولڈ کیا، جبکہ چارلی ناٹ جو اچھی فارم میں نظر آ رہی تھیں، ڈیوس کی آف اسپن کا شکار ہو گئیں۔ ڈیوس نے جارجیا ایلویس کو بھی ایک لیڈنگ ایج پر آؤٹ کیا، اور ایلا کلیرج نے گیند سیدھی بیکر کے ہاتھوں میں تھما دی۔

اس مشکل صورتحال میں ایما جونز اور لوسی ہائیام نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 37 گیندوں پر 50 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ ایما جونز نے 22 گیندوں پر 32 رنز بنائے جس میں پانچ باؤنڈریز شامل تھیں۔ وہ میری ٹیلر کی ایک سست گیند پر آؤٹ ہوئیں۔ اس کے بعد ڈیوس نے اپنا تیسرا شکار لوسی ہائیام کی صورت میں کیا، جنہوں نے شارٹ فائن لیگ پر ایک آسان کیچ دیا۔ تاہم، گریس بالنگر نے آخری اوورز میں 13 گیندوں پر 17 قیمتی رنز بنا کر دی بلیز کو 150 کے ہندسے کے پار پہنچا دیا، جو بالآخر ایک جیتنے والا سکور ثابت ہوا۔

آسٹن کی تنہا جنگ اور واروکشائر کی شکست

152 رنز کے ہدف کے تعاقب میں واروکشائر نے پاور پلے میں 37 رنز بنا کر ایبی فری بورن کی وکٹ گنوائی، جنہیں ایلویس نے بولڈ کیا۔ دس اوورز کے بعد واروکشائر کا سکور 67 پر 1 وکٹ تھا اور وہ ہدف کی جانب آرام دہ پوزیشن میں نظر آ رہے تھے۔ میگ آسٹن نے اپنی شاندار فارم کا مظاہرہ کیا اور نوجوان لیفٹ آرم اسپنر ماریا اینڈریوز کو ڈیپ مڈ وکٹ پر چھکا لگایا۔ اس کے بعد انہوں نے ایلویس کی گیند پر وائیڈ لانگ آن پر ایک اور چھکا لگا کر 33 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

دی بلیز کو اس وقت ایک اہم بریک تھرو ملا جب گریس بالنگر نے جارجیا ریڈمائن کو 22 رنز پر آؤٹ کیا، جنہوں نے بیکورڈ پوائنٹ پر ایک تھک ایج دیا تھا۔ تاہم، آسٹن نے اپنی جارحانہ بیٹنگ جاری رکھی اور تیسرا چھکا لگایا، باوجود اس کے کہ بیومونٹ نے باؤنڈری پر ایک بہادرانہ کوشش کی تھی۔ اب واروکشائر کو آخری پانچ اوورز میں 42 رنز درکار تھے اور میچ کافی سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔

دی بلیز کے باؤلرز نے اس دباؤ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چارس پاویلی ماریا اینڈریوز کے ایک بہترین کیچ کا شکار ہو گئیں، جس سے واروکشائر پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ آخری دو اوورز میں 20 رنز درکار تھے، اور واروکشائر کی امیدیں میگ آسٹن پر مرکوز تھیں۔ لیکن اسی وقت، آسٹن نے ایک لمبا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں لانگ آن پر کیچ دے دیا، جس نے واروکشائر کی فتح کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ آخری اوور کی پہلی گیند پر فلپس نے نیٹ ریتھ کو بولڈ کر کے دی بلیز کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔

نتائج اور آئندہ کے امکانات

دی بلیز نے ایک بار پھر اپنی مضبوط ٹیم ورک اور مشکل حالات میں دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بلے بازوں نے شراکتیں قائم کیں اور باؤلرز نے اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کیں۔ خاص طور پر جارجیا ڈیوس اور ہنا بیکر کی اسپن جوڑی نے درمیانی اوورز میں میچ کا رخ موڑ دیا۔ گریس بالنگر کی آل راؤنڈ کارکردگی بھی قابل تعریف رہی، جنہوں نے بلے اور گیند دونوں سے ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

دوسری جانب، واروکشائر کی ٹیم کو اپنی بیٹنگ لائن میں گہرائی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ میگ آسٹن کی غیر معمولی کارکردگی کے باوجود، انہیں دوسرے سرے سے خاطر خواہ مدد نہیں مل سکی۔ یہ شکست ان کے لیے ٹورنامنٹ میں پانچویں مسلسل شکست ہے، جو ان کی پلے آف کی امیدوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ٹیم کو اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا ہوگا اور اپنی بیٹنگ میں مزید استحکام لانا ہوگا۔ آسٹن کی طاقت بیئرز کی ہار کا سلسلہ توڑنے کے لیے کافی نہیں تھی، اور انہیں اجتماعی طور پر بہتر کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔