News

ILT20 teams concerned over new rules mandating Afghanistan, Ireland player recruitment

Avatar photo Yash Malhotra · · 1 min read

ٹی 20 لیگ میں نئے قواعد کا تنازعہ

انٹرنیشنل لیگ ٹی 20 (ILT20) کی انتظامیہ اور فرنچائزز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ لیگ کے 2026 کے سیزن کے لیے جاری کیے گئے نئے قواعد کے تحت تمام چھ ٹیموں کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اسکواڈ میں افغانستان سے کم از کم چار اور آئرلینڈ سے ایک کھلاڑی کو شامل کریں۔ یہ فیصلہ لیگ کے اندر ایک بڑی بحث اور تحفظات کو جنم دے رہا ہے۔

فرنچائزز کے تحفظات اور لیگ کا موقف

دستیاب دستاویزات کے مطابق، یہ شرائط مئی میں فرنچائزز کو بھیجے گئے ‘پلیئر کنٹریکٹ ماڈل’ کا حصہ تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام چھ فرنچائزز نے ان نئے قوانین کی سخت مخالفت کی ہے اور لیگ حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ تاہم، ILT20 انتظامیہ اپنے فیصلے پر قائم ہے اور اس کا ماننا ہے کہ پانچویں سیزن کے لیے یہ قوانین نافذ العمل رہیں گے۔

اسکواڈ کی تشکیل اور نئے تقاضے

نئے اصولوں کے مطابق، ٹیموں کو مندرجہ ذیل ضروریات کو پورا کرنا ہوگا:

  • اسکواڈ میں کل 21 سے 23 کھلاڑی شامل ہوں گے۔
  • 12 مکمل رکن ممالک سے 11 کھلاڑی۔
  • متحدہ عرب امارات (UAE) سے 4 کھلاڑی (جن میں ایک کیپڈ اور ایک انڈر 23 کھلاڑی شامل ہو)۔
  • گلف کوآپریشن کونسل (GCC) کے ممالک سے 2 کھلاڑی۔
  • ایک ایسوسی ایٹ ملک سے کھلاڑی۔

مزید برآں، پلئینگ الیون میں بھی دو افغان، دو یو اے ای اور ایک ایسوسی ایٹ ملک کے کھلاڑیوں کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ فیصلے کیوں کیے گئے؟

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ILT20 نے یہ اقدامات بنیادی طور پر کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کے خدشات کے پیش نظر کیے ہیں۔ ماضی میں دیگر لیگز جیسے SA20 اور BBL کے ساتھ شیڈولنگ کے ٹکراؤ کی وجہ سے کھلاڑیوں کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے کرکٹ بورڈز کی جانب سے اپنے کھلاڑیوں کو دیگر لیگز میں کھیلنے پر پابندیاں لگانا بھی اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

مستقبل کے چیلنجز اور خدشات

فرنچائزز کا ماننا ہے کہ ان سخت قوانین کی وجہ سے وہ اپنی بہترین ٹیم بنانے میں ناکام رہ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب آدھی ٹیم پر مخصوص ممالک کے کھلاڑیوں کا کوٹہ لاگو ہوگا، تو وہ اپنی پسند کے بہترین کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کی آزادی کھو دیں گے۔ فرنچائز مالکان کو خدشہ ہے کہ اگر ٹاپ کھلاڑیوں نے ان شرائط کی وجہ سے لیگ میں دلچسپی نہ لی، تو ٹیموں کا معیار گر سکتا ہے اور ان کا مالی بجٹ بھی متاثر ہوگا۔

آئی سی سی کی جانب سے بھی دنیا بھر میں پھیلتی ہوئی ٹی 20 لیگز پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے بین الاقوامی کرکٹ کے ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ ILT20 انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تجارتی مفادات اور کھلاڑیوں کی مستقل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ان معاہدوں کو ضروری سمجھتی ہے تاکہ لیگ کا مقابلہ باقی عالمی لیگز کے ساتھ برقرار رہ سکے۔

یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا آنے والے سیزن میں فرنچائزز اور انتظامیہ کے مابین یہ تنازعہ کس رخ اختیار کرتا ہے، لیکن فی الحال یہ صورتحال ٹی 20 کرکٹ کے ماڈل پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر رہی ہے۔