News

Pitch imperfect: Nasser Hussain, Michael Vaughan lead criticism of Lord’s surfac

Avatar photo Yash Malhotra · · 1 min read

لارڈز کرکٹ گراؤنڈ، جسے کرکٹ کا گھر کہا جاتا ہے، اس وقت انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ میں اپنی پچ کی وجہ سے شدید بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ میچ کے پہلے دو دنوں کے دوران پچ پر فاسٹ بولرز کا مکمل راج رہا اور ہر 25 گیندوں کے بعد ایک وکٹ گرتی رہی۔ اس غیر معمولی صورتحال نے سابق برطانوی کپتانوں ناصر حسین اور مائیکل وان کو پچ کے غیر متوقع باؤنس پر کھل کر تنقید کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

پچ کا غیر معیاری سلوک اور ناصر حسین کا غصہ

سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے اسکائی اسپورٹس پر گفتگو کرتے ہوئے لارڈز کی پچ کو واضح طور پر “غیر معیاری” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پچ پر بلے بازی کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے کیونکہ گیند کا باؤنس بالکل بھی قابل بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے جیک بیتھل کے آؤٹ ہونے کی مثال دی، جو میٹ ہنری کی ایک ایسی گیند پر کلین بولڈ ہوئے جو بلے کے نچلے حصے کے بالکل نیچے سے گزر کر مڈل اور آف اسٹمپ میں جا گھسی۔ ناصر حسین کے مطابق، اس گیند پر بلے باز کے پاس بچنے کا کوئی موقع ہی نہیں تھا۔

ناصر حسین نے پچ کے خراب رویے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ میچ کی پہلی ہی گیند زمین پر رینگتی ہوئی گئی تھی۔ انہوں نے کہا: “پوری اننگز کے دوران اس پچ پر رفتار کی کمی دیکھی گئی ہے اور جب بھی گیند تھوڑی تیز ہوتی ہے، یہ اچانک غیر متوقع سلوک شروع کر دیتی ہے۔ ایک بلے باز کے طور پر میں کہہ سکتا ہوں کہ غیر متوقع باؤنس سے زیادہ بری چیز کوئی نہیں ہو سکتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ گیند سیم بھی ہو رہی ہے اور لارڈز کی پچ کا ڈھلوان بھی اس میں شامل ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اس پچ نے دونوں ٹیموں کے بہترین فاسٹ بولرز کی موجودگی میں بیٹنگ کو ناممکن بنا دیا ہے۔ ناصر حسین نے لارڈز کے انتظامی امور کی تعریف تو کی لیکن پچ کی حالت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “اس گراؤنڈ میں سب کچھ بہترین ہے۔ گراؤنڈ کے ارد گرد کی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی بھرپور توجہ دی گئی ہے، لیکن سب سے اہم حصہ یعنی درمیان کی پچ فی الحال اس معیار کی نہیں ہے جس کی توقع لارڈز جیسے تاریخی میدان سے کی جاتی ہے۔”

مائیکل وان کا ہمدردانہ اور تنقیدی مؤقف

ناصر حسین کے بعد سابق کپتان مائیکل وان نے بھی بی بی سی کے ٹیسٹ میچ اسپیشل پر بات کرتے ہوئے پچ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ان بلے بازوں کے لیے انتہائی افسوس ہو رہا ہے جنہیں اس ناپید اور غیر متوقع وکٹ پر بیٹنگ کرنی پڑ رہی ہے۔ وان کا کہنا تھا: “ٹیسٹ میچ کرکٹ کو ایک امتحان ہونا چاہیے، لیکن اس ہفتے یہ بولرز کے لیے کوئی امتحان نہیں ہے کیونکہ ان کے لیے وکٹیں حاصل کرنا بہت آسان ہو چکا ہے۔ کرکٹ میں گیند اور بلے کے درمیان ایک منصفانہ توازن ہونا چاہیے، لیکن اس پچ پر ایسا کوئی توازن نظر نہیں آ رہا۔”

مائیکل وان نے دنیا کے دو عظیم ترین بلے بازوں، جو روٹ اور کین ولیمسن کی مثال پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان دونوں عظیم کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر چار اننگز میں صرف 27 رنز بنائے۔ وان کے مطابق، یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پچ کھیلنے کے قابل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: “جب آپ اتنے عظیم کھلاڑیوں کو کریز پر اتنی جدوجہد کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ حالات کتنے مشکل ہیں۔ ایم سی سی خود بھی یہ بات جانتی ہے کہ یہ پچ معیار کے مطابق نہیں ہے۔ لارڈز کرکٹ کھیلنے کے لیے دنیا کی بہترین جگہ ہے اور میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنے کیریئر کے دوران ایسی پچوں پر بیٹنگ نہیں کرنی پڑی۔”

ایم سی سی کی پچ بہتر بنانے کی ناکام کوششیں

میریلیبون کرکٹ کلب جو لارڈز گراؤنڈ کا مالک اور منتظم ہے، حالیہ برسوں میں پچوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں رہا ہے۔ گزشتہ سردیوں کے دوران پچوں میں تیزی اور باؤنس لانے کے لیے ایک نیا طریقہ کار استعمال کیا گیا جس میں مٹی کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے پچوں کو اسٹیم کیا گیا۔ تاہم، موجودہ ٹیسٹ میچ کے ابتدائی دو دنوں کے کھیل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کوششوں کا کوئی خاطر خواہ اور مثبت اثر سامنے نہیں آیا۔

اس پچ کی خرابی کا ایک اور بڑا ثبوت یہ ہے کہ دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے میچ کے پہلے دو دنوں میں ایک اوور بھی اسپنر سے نہیں کروایا۔ موسم کی نمی اور پچ کے غیر متوقع رویے کی وجہ سے سیم بولنگ اتنی خطرناک ثابت ہو رہی تھی کہ کسی بھی اسپنر کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔

نیوزی لینڈ کا ہدف اور بولر نیتھن سمتھ کا بیان

میچ کی موجودہ صورتحال کے مطابق نیوزی لینڈ کو میچ جیتنے کے لیے چوتھی اننگز میں 254 رنز کا ہدف ملا ہے، جو اس پچ پر ایک انتہائی مشکل ہدف معلوم ہوتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے تیسرے دن کا آغاز 7 وکٹیں ہاتھ میں رکھ کر کیا اور انہیں مزید 218 رنز درکار تھے۔ اس سے قبل دونوں ٹیمیں پہلی اننگز میں بالترتیب 140، 113 اور دوسری اننگز میں 226 رنز ہی بنا سکیں۔

نیوزی لینڈ کی طرف سے دوسری اننگز میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کرنے والے بولر نیتھن سمتھ نے پچ کے حوالے سے ایک مختلف زاویہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچ کے رویے پر موسم کا بہت گہرا اثر رہا ہے۔ پہلے دو دن کے دوران زیادہ تر وقت آسمان پر گہرے بادل چھائے رہے جس نے بولرز کی بھرپور مدد کی۔

نیتھن سمتھ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “میرے خیال میں پچ سے یقینی طور پر مدد مل رہی ہے۔ جیسا کہ سب نے دیکھا، یہاں تھوڑا بہت غیر متوقع باؤنس بھی ہے اور گیند ہوا میں سیم بھی ہو رہی ہے۔ لیکن جب دھوپ نکلتی ہے تو یہ پچ بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ دھوپ میں بولرز کے لیے کام کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے اور گیند بھی نرم پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں امید ہے کہ تیسرے دن دھوپ نکلے گی تاکہ بیٹنگ کرنا کچھ آسان ہو سکے۔”

خلاصہ: لارڈز کے مستقبل کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان

ٹیسٹ کرکٹ کی بقا اور خوبصورتی اس بات میں ہے کہ گیند اور بلے کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملے۔ لیکن لارڈز کی اس پچ نے جہاں بلے بازوں کے لیے ڈراؤنا خواب پیدا کیا، وہیں اس گراؤنڈ کی تاریخی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔ ناصر حسین اور مائیکل وان جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی آراء کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اب یہ ایم سی سی انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ پچ کی تیاری کے روایتی طریقوں پر نظرثانی کرے تاکہ مستقبل میں شائقین کرکٹ کو لارڈز کے میدان پر ایک متوازن اور معیاری کھیل دیکھنے کو ملے۔