News

Cricket Canada draws up ‘comprehensive’ plan in bid to overturn ICC suspension

Avatar photo Tanay Bhatt · · 1 min read

کرکٹ کینیڈا کا آئی سی سی معطلی کے خلاف لائحہ عمل

کینیڈین کرکٹ کے لیے ایک مشکل وقت میں، کرکٹ کینیڈا نے اپنی معطل شدہ آئی سی سی رکنیت کی فوری بحالی کے لیے ایک وسیع اور جامع ایکشن پلان پیش کیا ہے۔ یہ اقدام آئی سی سی کی جانب سے کینیڈا کی ایسوسی ایٹ رکنیت کی معطلی کے بعد سامنے آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ گورننس کے مسائل، مالیاتی نگرانی میں کمی اور انتظامی امور میں سنگین کوتاہیاں بتائی گئی تھیں۔

معطلی کی وجوہات اور پس منظر

آئی سی سی کا یہ سخت فیصلہ اچانک نہیں آیا بلکہ یہ ایک طویل عرصے سے جاری انتظامی بحران کا نتیجہ ہے۔ کینیڈا کی کرکٹ میں ماضی میں ہونے والی تقرریوں، بالخصوص سابق سی ای او سلمان خان کی تقرری نے آئی سی سی کی توجہ حاصل کی تھی۔ سلمان خان پر مجرمانہ الزامات کے علاوہ دھوکہ دہی اور چوری کے کیسز بھی درج کیے گئے، جس سے کینیڈین کرکٹ کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔

علاوہ ازیں، کینیڈا کی ٹیم کو آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات کا بھی سامنا ہے، جس کا تعلق رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ سے ہے۔ اس کے علاوہ سابق کوچ خرم چوہان کی ایک آڈیو لیک بھی سامنے آئی تھی جس میں مبینہ طور پر بورڈ ممبران کی جانب سے کھلاڑیوں کے انتخاب میں مداخلت کا ذکر کیا گیا تھا۔

نئی انتظامیہ اور اصلاحاتی عمل

مئی میں اروندر کھوسہ کی قیادت میں نو رکنی بورڈ کے انتخاب کے بعد، کرکٹ کینیڈا کی نئی قیادت ان پرانے مسائل سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چیف آپریٹنگ آفیسر بھوجیت جوہر کے مطابق، بیشتر مسائل کا تعلق پرانی انتظامیہ کے فیصلوں سے ہے، اور موجودہ بورڈ ان تمام وراثتی مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔

اصلاحات کے اہم نکات:

  • آئی سی سی کو ایک تفصیلی اصلاحاتی پلان جمع کروانا جس میں گورننس اور مالیاتی غلطیوں کا تجزیہ شامل ہے۔
  • ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی کا قیام جس کی سربراہی وکیل ڈاشا پیریگوڈووا کر رہی ہیں۔
  • کمیٹی کو مالی ریکارڈز اور دستاویزات تک بلا روک ٹوک رسائی فراہم کرنا۔
  • مستقبل کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی انتظامی اقدامات کا تعین کرنا۔

مستقبل کا لائحہ عمل

کرکٹ کینیڈا اب آئی سی سی کی نارملائزیشن کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی توقع رکھتا ہے، جس میں کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ اور آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ شامل ہیں۔ اگرچہ کینیڈا کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معطلی کا فیصلہ ان کے لیے غیر متوقع تھا، لیکن وہ آئی سی سی کے ضوابط کی مکمل پاسداری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

آنے والے 45 دنوں میں، تحقیقاتی کمیٹی اپنی مکمل رپورٹ پیش کرے گی، جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ کینیڈا کس حد تک اپنے گورننس کے نظام کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔ کرکٹ کے شائقین اور کھلاڑیوں کی نظریں اب اس اصلاحاتی عمل پر مرکوز ہیں، کیونکہ کینیڈین کرکٹ کی بقا اور بین الاقوامی سطح پر واپسی مکمل طور پر ان اقدامات کی کامیابی پر منحصر ہے۔

یہ عمل نہ صرف کرکٹ کینیڈا کے لیے اپنی ساکھ بحال کرنے کا موقع ہے، بلکہ یہ دیگر ایسوسی ایٹ ممبران کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اصولوں پر عملدرآمد اور شفافیت کتنی ناگزیر ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ نئی اصلاحات کے بعد کینیڈا جلد ہی دوبارہ عالمی کرکٹ کے میدانوں میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر سکے گا۔