Preview

England brace for new beginnings as old failings take back seat

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

لارڈز میں ایک نئے سفر کا آغاز

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم طویل عرصے سے جاری غیر مستقل مزاجی اور ایشیز سیریز کی تلخ یادوں کو پیچھے چھوڑ کر اب ایک نئے باب کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ نہ صرف ایک سیریز کا حصہ ہے، بلکہ یہ انگلینڈ کی اس نئی حکمت عملی کا امتحان بھی ہے جس میں ‘وائبز’ (vibes) کے بجائے ٹھوس کارکردگی اور نتائج پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

پرانی ناکامیوں سے دوری

جنوری میں ایشیز سیریز میں شکست کے بعد سے شائقین اور ٹیم انتظامیہ دونوں ہی دباؤ کا شکار تھے۔ تاہم، ٹیم کے کپتان بین سٹوکس اور کوچ برینڈن میکلم اب اس بحث سے نکل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ انگلینڈ کی ٹیم میں شامل کیے گئے نئے کھلاڑی اور پرانے کھلاڑیوں کی واپسی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب ٹیم ‘خوبصورت کرکٹ’ کے بجائے ‘جیتنے والی کرکٹ’ پر توجہ دے رہی ہے۔ اولی رابنسن کی ٹیم میں واپسی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب ٹیم کی ترجیحات میں جذبات سے زیادہ اہلیت کو اہمیت حاصل ہے۔

نیوزی لینڈ کی مضبوط چیلنج

نیوزی لینڈ کی ٹیم، جو ہمیشہ سے انڈر ڈاگ ہونے کے باوجود خطرناک ثابت ہوتی ہے، اس دورے پر اپنی پوری تیاری کے ساتھ آئی ہے۔ کیوی ٹیم کے پاس کائل جیمیسن اور ول اورورک جیسے لمبے قد کے فاسٹ بولرز موجود ہیں، جو انگلینڈ کے سرد اور مرطوب موسم میں میزبان بلے بازوں کے لیے دردِ سر بن سکتے ہیں۔ نیوزی لینڈ نے حال ہی میں بھارت میں ٹیسٹ سیریز جیت کر اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے، اس لیے وہ انگلینڈ کو کسی بھی طرح ہلکا لینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

ایمیلیو گے اور کین ولیمسن: توجہ کا مرکز

اس میچ میں انگلش اوپنر ایمیلیو گے پر سب کی نظریں ہوں گی۔ کاؤنٹی کرکٹ میں رنز کے انبار لگانے والے گے کے لیے یہ ٹیسٹ ڈیبیو ان کے کیریئر کا سب سے بڑا موقع ہے۔ دوسری جانب، نیوزی لینڈ کے لیجنڈ کین ولیمسن اپنے کیریئر کے آخری پڑاؤ پر لارڈز کے میدان میں ایک یادگار اننگز کھیلنے کے لیے پرعزم ہیں۔

لارڈز کا تاریخی 150 واں ٹیسٹ

یہ میچ لارڈز کا 150 واں ٹیسٹ ہوگا، جو اسے کرکٹ کی تاریخ میں ایک خاص مقام دیتا ہے۔ انگلینڈ کے لیے یہ میدان ہمیشہ سے خوش قسمت رہا ہے، لیکن حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے یہ مقابلہ کانٹے دار ہونے کی توقع ہے۔

ممکنہ ٹیمیں

  • انگلینڈ: ایمیلیو گے، بین ڈکٹ، جیکب بیتھل، جو روٹ، ہیری بروک، بین سٹوکس (کپتان)، جیمی سمتھ، گس اٹکنسن، اولی رابنسن، جوش ٹنگ، شعیب بشیر۔
  • نیوزی لینڈ: ٹام لیتھم (کپتان)، ڈیون کونوے، کین ولیمسن، راچن رویندرا، ڈیرل مچل، ٹام بلنڈیل، گلین فلپس، نیتھن سمتھ، کائل جیمیسن، میٹ ہنری، ول اورورک۔

کرکٹ کے متوالوں کے لیے یہ سیریز ایک کڑا امتحان ہے۔ کیا انگلینڈ واقعی اپنی پرانی ناکامیوں کو بھول کر ایک نئی تاریخ رقم کر سکے گا یا نیوزی لینڈ اپنی روایتی مستحکم کارکردگی سے میزبان ٹیم کے منصوبوں پر پانی پھیر دے گا؟ اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں لارڈز کی وکٹ پر ہوگا۔