Ahead of Afghanistan Test, Kuldeep gets a ‘feel of the red ball’ after underwhel – بھارتی اسپنر کی اہم تیاریاں
ٹی ٹوئنٹی سے ٹیسٹ فارمیٹ کی طرف منتقلی ایک بڑا چیلنج
بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اسپنر کولدیپ یادو کا کہنا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے فوری بعد ٹیسٹ کرکٹ میں خود کو ڈھالنا ایک مشکل عمل ہے۔ تاہم، وہ پرامید ہیں کہ افغانستان کے خلاف نیو چنڈی گڑھ میں شیڈول واحد ٹیسٹ میچ کے لیے تمام کھلاڑی بہترین تیاری کر رہے ہیں۔ کولدیپ یادو نے جیو ہاٹ اسٹار (JioHotstar) کے اشتراک سے پی ٹی آئی (PTI) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی تیاریوں اور ٹیم کی حکمت عملی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
کولدیپ یادو کا کہنا تھا کہ: “جب آپ آئی پی ایل کرکٹ سے ریڈ بال کرکٹ کی طرف جاتے ہیں تو یہ واقعی بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں تیاری اور مشق سب سے اہم اور ضروری بن جاتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ کھیل کے دونوں فارمیٹس کی تکنیک اور ذہنیت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، جس کے لیے خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کرنا لازمی ہوتا ہے۔
آئی پی ایل 2026 کی مایوس کن کارکردگی اور ریڈ بال کی مشق کا موقع
دہلی کیپٹلز کی نمائندگی کرنے والے کولدیپ یادو کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن کچھ خاص نہیں رہا۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے 12 میچوں میں 38.10 کی اوسط اور 10.29 کے اکانومی ریٹ سے محض 10 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی ٹیم دہلی کیپٹلز پلے آف مرحلے تک پہنچنے میں ناکام رہی۔ تاہم، کولدیپ یادو نے اس مایوسی کو ایک موقع میں بدل دیا۔ پلے آف میں نہ پہنچنے کی وجہ سے انہیں ریڈ بال کرکٹ کی تیاری کے لیے اضافی وقت مل گیا۔
کولدیپ نے بتایا: “خوش قسمتی سے مجھے کافی وقت مل گیا۔ میں نے کم از کم 10 سے 15 دنوں تک لال گیند کے ساتھ سخت مشق کی، جس سے مجھے ریڈ بال کا احساس حاصل کرنے میں مدد ملی۔” انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ: “ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں آپ ہمیشہ جارحانہ انداز اپناتے ہیں۔ آپ کے ذہن میں ہر وقت بلے باز پر حاوی ہونے اور وکٹ لینے کا خیال رہتا ہے۔ آپ اسی ذہنیت کے ساتھ کھیل میں رہتے ہیں۔ لیکن ٹیسٹ کرکٹ بالکل مختلف ہے۔ یہاں بلے باز کے پاس کریز پر کھڑے ہونے اور سوچنے کے لیے بہت وقت ہوتا ہے، اس لیے یہاں صبر اور درست لائن و لینتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔”
اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کولدیپ نے کہا: “کچھ کھلاڑی آئی پی ایل کا فائنل کھیلنے کے فوراً بعد آ رہے ہیں۔ ان کے پاس تیاری کے لیے زیادہ وقت نہیں تھا۔ لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ انہوں نے بھی اس سے قبل اچھی تیاری کی ہوگی۔ اگرچہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن مجھے بھروسہ ہے کہ ہر کوئی خود کو اس فارمیٹ کے مطابق ڈھالنے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔”
بھارتی اسپن شعبے میں بڑی تبدیلیاں اور نیا چیلنج
افغانستان کے خلاف اس ٹیسٹ میچ میں بھارت کا اسپن اٹیک بالکل مختلف اور نیا نظر آئے گا۔ مایہ ناز اسپنر روی چندرن اشون انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں، جبکہ رویندر جڈیجہ کو اس میچ کے لیے آرام دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اکشر پٹیل کو اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔ ان سینیئر کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں بھارتی سلیکٹرز نے نوجوان اور نسبتاً ناتجربہ کار اسپنرز کو موقع دیا ہے۔
اسکواڈ میں بائیں ہاتھ کے اسپنرز ہرش دوبے اور مانو سوتھر کو پہلی بار بھارتی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس وقت ٹیم میں سب سے تجربہ کار اسپنر خود کولدیپ یادو اور واشنگٹن سندر ہیں، لیکن ان دونوں نے بھی اب تک صرف 17، 17 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں۔ اس لحاظ سے اسپن شعبے کی قیادت کی بڑی ذمہ داری اب کولدیپ یادو کے کندھوں پر آ گئی ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی اور سینیئرز کی کمی
کولدیپ یادو نے تسلیم کیا کہ ٹیم کو جڈیجہ اور اکشر پٹیل جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی کمی محسوس ہوگی۔ انہوں نے کہا: “جی ہاں، جڈو بھائی (رویندر جڈیجہ) ٹیم میں نہیں ہیں جو کہ ایک باقاعدہ ٹیسٹ کھلاڑی ہیں اور ان کی کارکردگی ہمیشہ شاندار رہتی ہے۔ ہمیں اس ٹیسٹ میچ میں اکشر پٹیل کی کمی بھی محسوس ہوگی۔ لیکن ہماری تیاریاں بہت اچھی رہی ہیں۔ واشنگٹن سندر بھی اب باقاعدگی سے ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں، اس لیے وہ ٹیم کے ماحول میں اچھی طرح سیٹ ہو چکے ہیں۔”
نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے کولدیپ نے کہا: “جب بھی کوئی نیا کھلاڑی ٹیم میں شامل ہوتا ہے، تو آپ کا سب سے پہلا کام اسے پرسکون اور آرام دہ محسوس کرانا ہوتا ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ وہ آپ کو ایک حریف کے بجائے ایک بہترین ساتھی اور پارٹنر کے طور پر دیکھے۔ اگر اسے کوئی بھی مسئلہ یا الجھن ہو، تو اسے مجھ سے کھل کر بات کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہیے، اور مجھے ہمیشہ اس کی مدد اور رہنمائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا: “پچھلے دو سالوں کے دوران یہ نوجوان کھلاڑی (ہرش دوبے اور مانو سوتھر) انڈیا اے کے دوروں کا حصہ رہے ہیں۔ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں دلیپ ٹرافی اور ایرانی ٹرافی بھی باقاعدگی سے کھیل رہے ہیں۔ لہذا، اگرچہ ان کے پاس بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ کم ہو سکتا ہے، لیکن جب بات تیاری، میچ کی سمجھ بوجھ اور ریڈ بال کرکٹ کی آتی ہے، تو وہ بالکل تیار ہیں کیونکہ وہ مسلسل کھیل رہے ہیں۔”
ٹیسٹ کرکٹ میں صبر اور حکمت عملی کی اہمیت
جب کولدیپ سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے نئے اسپن پارٹنرز کے ساتھ کس قسم کی گفتگو کرتے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ ان کے درمیان پچ اور موسمی حالات کے حوالے سے گہرائی سے بات چیت ہوتی ہے۔
کولدیپ نے کہا: “ہم ایک گروپ کے طور پر بہت کھل کر بات کرتے ہیں، خاص طور پر پچ اور کنڈیشنز کے بارے میں۔ اگر میں نوجوان کھلاڑیوں کا امتحان لینا چاہوں، تو میں ان سے پچ کی نوعیت، موسم کے اثرات اور میچ کے تئیں ہماری حکمت عملی کے بارے میں سوالات پوچھتا ہوں۔ ہماری زیادہ تر گفتگو بنیادی تدابیر پر ہوتی ہے، جیسے کہ کس لینتھ پر گیند بازی کرنی ہے، اس وکٹ پر گیند کی رفتار کیا ہونی چاہیے، اور ٹیسٹ کرکٹ میں اسپنرز کو کتنا صبر کرنا چاہیے۔ ٹیسٹ فارمیٹ میں صبر ہی سب کچھ ہے، جو آپ کو کامیابی دلاتا ہے۔”
واضح رہے کہ افغانستان کے خلاف یہ ٹیسٹ میچ بھارتی نوجوان اسپنرز کے لیے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا ایک بہترین سنہری موقع ثابت ہوگا۔ کولدیپ یادو کی سرپرستی اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ نوجوان کھلاڑی ہندوستانی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس ٹیسٹ میچ سے قبل کولدیپ یادو کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ ماضی کی مایوس کن کارکردگی کو پیچھے چھوڑ کر ٹیسٹ فارمیٹ میں ایک نئی توانائی کے ساتھ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہیں، اور ان کا ہدف ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے۔ Ahead of Afghanistan Test, Kuldeep gets a ‘feel of the red ball’ after underwhel کا یہ سفر ان کے کیریئر میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔