Watch: Basit Ali tears into Shadab Khan as Saqlain Mushtaq listens on Live TV
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے پہلے تاریخی ون ڈے میچ میں جہاں پاکستان نے شاندار کامیابی حاصل کی، وہیں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ Watch: Basit Ali tears into Shadab Khan as Saqlain Mushtaq listens on Live TV اور جانیں کہ کس طرح سابق قومی سلیکٹر باسط علی نے لائیو شو کے دوران آل راؤنڈر شاداب خان کی ٹیم میں شمولیت اور ان کی ناقص کارکردگی پر کڑی تنقید کی، جبکہ شاداب کے سسر اور سابق اسپنر ثقلین مشتاق بھی اسی پینل پر موجود خاموشی سے سب سنتے رہے۔
راولپنڈی میں تاریخی 1000واں ون ڈے اور پاکستان کی فتح
پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا یہ میچ انتہائی تاریخی نوعیت کا تھا، کیونکہ یہ پاکستان کا مجموعی طور پر 1000واں ون ڈے میچ تھا۔ اس تاریخی سنگِ میل کو عبور کرنے والا پاکستان دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے، اس سے قبل صرف آسٹریلیا اور بھارت ہی یہ اعزاز حاصل کر پائے ہیں۔ اس یادگار موقع پر پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو کہ بالکل درست ثابت ہوا۔ پچ اسپنرز کے لیے سازگار تھی، اور پاکستانی بالرز نے کینگروز کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ آسٹریلوی ٹیم مقررہ اوورز بھی مکمل نہ کھیل سکی اور 44 اوورز میں 200 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ میتھیو شارٹ اور میٹ رینشا نے نصف سینچریاں اسکور کیں لیکن ان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز پاکستانی باؤلنگ کے سامنے ٹک نہ سکا۔
عرفات منہاس کا تاریخی ڈیبیو اور شاندار کارکردگی
اس میچ کے اصل ہیرو انیس سالہ لیفٹ آرم اسپنر عرفات منہاس تھے جنہوں نے اپنے پہلے ہی بین الاقوامی میچ میں تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کیا۔ انڈر 19 سطح پر شاندار کارکردگی دکھانے کے بعد قومی ٹیم میں شامل ہونے والے عرفات منہاس نے اپنے 10 اوورز کے اسپیل میں صرف 32 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ وہ پاکستان کی ون ڈے تاریخ میں اپنے پہلے ہی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے باؤلر بن گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے مارنس لبوشین کو چھکا لگا کر ٹیم کو میچ جتوایا اور تاریخی فتح کا جشن منایا۔ ان کے علاوہ ابرار احمد نے دو جبکہ سلمان آغا، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
بابر اعظم اور غازی غوری کی ذمہ دارانہ بیٹنگ
ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی جانب سے بابر اعظم اور غازی غوری نے انتہائی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ بابر اعظم نے 69 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ غازی غوری نے 65 رنز بنا کر ٹیم کی جیت کی راہ ہموار کی۔ دونوں بلے بازوں کی بہترین شراکت داری کی بدولت پاکستان نے ہدف کو باآسانی حاصل کر کے تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔
شاداب خان کی مایوس کن واپسی اور خراب کارکردگی
جہاں ایک طرف نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی پر خوشی منائی جا رہی تھی، وہیں دوسری طرف آل راؤنڈر شاداب خان کی کارکردگی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ نومبر 2023 کے ورلڈ کپ کے بعد شاداب خان کا یہ پہلا ون ڈے میچ تھا، لیکن ان کی واپسی انتہائی مایوس کن رہی۔ پاکستان کی طرف سے استعمال کیے جانے والے چھ باؤلرز میں شاداب خان واحد باؤلر تھے جنہیں کوئی وکٹ نہ مل سکی۔ جہاں آسٹریلیا ساڑھے چار رنز فی اوور کے حساب سے رنز بنا رہا تھا، وہیں شاداب خان نے اپنے 8 اوورز میں 54 رنز لٹائے، یعنی ان کا اکانومی ریٹ 6.75 رہا۔ پاکستان کا کوئی بھی دوسرا باؤلر 4.4 رنز فی اوور سے زیادہ دینے والا نہیں تھا، جو شاداب کی خراب فارم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ان کا مسلسل پانچواں ون ڈے میچ تھا جس میں وہ وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے، جبکہ ان میں سے ایک میچ میں تو انہیں باؤلنگ کا موقع بھی نہیں دیا گیا تھا۔
باسط علی کی لائیو ٹی وی پر ثقلین مشتاق کی موجودگی میں شاداب پر کڑی تنقید
میچ کے فوری بعد، اے آر وائی نیوز پر لائیو نشریات کے دوران سابق کرکٹر اور سلیکٹر باسط علی نے شاداب خان کی ٹیم میں شمولیت اور ان کی خراب کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اس شو کی خاص بات یہ تھی کہ پینل پر شاداب خان کے سسر اور پاکستان کے مایہ ناز سابق اسپنر ثقلین مشتاق بھی موجود تھے، جن کی موجودگی میں باسط علی نے شاداب پر تنقید کے تیر برسائے۔
باسط علی کا کہنا تھا کہ شاداب خان نے پچھلے تین سالوں میں باقاعدگی سے ون ڈے کرکٹ نہیں کھیلی، تو پھر وہ کس بنیاد پر ٹیم میں واپس آ گئے؟ انہوں نے کہا:
“آپ مجھے بتائیں، شاداب خان نے پچھلے تین سالوں سے ون ڈے کرکٹ نہیں کھیلی، وہ صرف پی ایس ایل (PSL) کھیلتے رہے ہیں۔ تین سال تک روزانہ صرف چار اوورز کروانے والے باؤلر کو آپ براہِ راست ون ڈے ٹیم میں کیسے شامل کر سکتے ہیں جہاں اسے 10 اوورز کروانے پڑتے ہیں؟”
باسط علی نے مزید کہا کہ یہ صریحاً پسند ناپسند اور فیورٹ ازم کا معاملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا:
“میں وہ پہلا شخص تھا جس نے شاداب خان کو انڈر 19 کرکٹ کے لیے منتخب کیا تھا۔ لیکن جب آپ کی کوئی کارکردگی نہ ہو اور آپ کو براہِ راست پیرا شوٹ کے ذریعے ٹیم میں شامل کر لیا جائے، تو دوسرے نوجوان کھلاڑیوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں۔ وہ پی سی بی اور سلیکٹرز کے ڈر سے خاموش ضرور رہتے ہیں، لیکن ایسی چیزیں بالآخر پاکستان کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔”
اس پوری گفتگو کے دوران ثقلین مشتاق خاموشی سے باسط علی کی باتیں سنتے رہے، جس نے سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
شاداب خان کے ون ڈے کیریئر پر ایک نظر
شاداب خان نے 2017 میں اپنے ون ڈے کیریئر کا آغاز کیا تھا، لیکن اس فارمیٹ میں ان کی کارکردگی ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، جس کی وجہ سے بالآخر انہیں 2023 میں ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔ اب تک کے کیریئر میں ان کے اعدادوشمار کچھ اس طرح ہیں:
- میچز: 71
- وکٹیں: 85
- بولنگ اوسط: 35.45
- اکانومی ریٹ: 5.26
- رنز: 855
- بیٹنگ اوسط: 25.9
- اسٹرائیک ریٹ: 86
پاکستان کرکٹ کے لیے یہ فتح یقیناً خوش آئند ہے لیکن شاداب خان کی فارم اور ٹیم سلیکشن پر اٹھنے والے یہ سوالات آنے والے میچوں میں سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا شاداب اگلے میچوں میں اپنی کارکردگی سے ناقدین کو خاموش کروا پاتے ہیں یا نہیں۔