Latest Cricket News

Ravichandran Ashwin compares Rajat Patidar-Virat Kohli relationship to Ramayan aur IPL 2026 ka final

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

آئی پی ایل 2026 کا یادگار فائنل اور ایک تاریخی رشتہ

آئی پی ایل 2026 کا فائنل میچ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) نے گجرات ٹائٹنز کو شکست دے کر مسلسل دوسری بار ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس شاندار کامیابی کے پیچھے ٹیم کا اتحاد اور کھلاڑیوں کے درمیان باہمی احترام کا بڑا کردار تھا۔ اس موقع پر، روی چندرن ایشون نے ایک دلچسپ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ Ravichandran Ashwin compares Rajat Patidar-Virat Kohli relationship to Ramayan a، جس سے انہوں نے راجت پاٹیدار کی عاجزی اور وراٹ کوہلی کی قیادت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

رامائن کا حوالہ اور ٹیم کا ماحول

اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے، ایشون نے وضاحت کی کہ کس طرح فائنل سے پہلے ٹیم میٹنگ (ہڈل) کے دوران راجت پاٹیدار نے وراٹ کوہلی کو قیادت کرنے کی مکمل آزادی دی۔ ایشون نے کہا، “یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے رامائن میں بھرت نے بھگوان رام کی کھڑاؤں (جوتے) کو تخت پر رکھ کر ان کی نمائندگی کی تھی۔ راجت پاٹیدار نے بھی بالکل ویسا ہی کیا؛ انہوں نے وراٹ کوہلی کو ٹیم کو متحرک کرنے اور ہدایات دینے کے لیے پورا موقع دیا۔”

وراٹ کوہلی: ٹیم کا اصل ‘الفا’

ایشون کا ماننا ہے کہ وراٹ کوہلی ٹیم میں ایک قدرتی لیڈر ہیں۔ چاہے وہ کپتان ہوں یا نہ ہوں، ان کی موجودگی ہی ٹیم کے لیے حوصلہ افزا ہوتی ہے۔ ایشون نے مزید کہا، “وراٹ کوہلی ٹیم میں ایک ‘الفا’ ہیں اور وہ ہمیشہ وہی رہیں گے۔ اگر وہ کپتانی نہیں بھی کر رہے، تب بھی وہ ڈریسنگ روم میں لیڈر ہی رہیں گے۔” فائنل میچ میں وراٹ کوہلی نے 42 گیندوں پر ناقابل شکست 75 رنز بنا کر ثابت کیا کہ وہ اب بھی عالمی کرکٹ کے سب سے بڑے میچ ونر ہیں۔

آئی پی ایل 2026 میں کوہلی کی کارکردگی

وراٹ کوہلی کے لیے یہ سیزن انتہائی شاندار رہا۔ انہوں نے 16 اننگز میں 56.25 کی اوسط اور 165.84 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ مجموعی طور پر 675 رنز بنائے۔ اس سیزن میں انہوں نے پانچ نصف سنچریاں اسکور کیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور 105 رنز ناٹ آؤٹ رہا۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ نے آر سی بی کو مشکل لمحات سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

گجرات ٹائٹنز کے خلاف حکمت عملی

فائنل میچ میں آر سی بی کی باؤلنگ بھی کافی مؤثر رہی۔ راجت پاٹیدار نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ جیکب ڈفی کا پہلا اوور تھوڑا مہنگا ثابت ہوا جس میں 13 رنز بنے، لیکن اس کے بعد باؤلرز نے میچ پر گرفت مضبوط کر لی۔ راسخ ڈار سلام نے 27 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ بھونیشور کمار اور جوش ہیزل ووڈ نے بھی دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے گجرات ٹائٹنز کو 155 رنز تک محدود کر دیا۔

نتیجہ

آر سی بی کی یہ جیت صرف ایک ٹرافی نہیں تھی، بلکہ یہ ٹیم کے اندر قائم اس باہمی اعتماد کی جیت تھی جس کا ذکر روی چندرن ایشون نے رامائن کے حوالے سے کیا۔ ٹیم کے اندر کھلاڑیوں کا ایک دوسرے کے کردار کا احترام کرنا ہی آر سی بی کو ایک ناقابل شکست یونٹ بناتا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ فائنل کرکٹ تاریخ میں ایک یادگار کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جہاں قیادت کے بجائے ٹیم کے مفاد کو ترجیح دی گئی۔