Shreyas Iyer faces Gautam Gambhir roadblock as Rajat Patidar emerges in India T2 – شریس ایر کو گوتم گمبھیر کی رکاوٹ کا سامنا ہے جبکہ راجت پاٹیدار بھارت ٹی ٹوئنٹی کپتانی کی دوڑ میں ابھر رہے ہیں
بھارتی کرکٹ ٹیم کے آئندہ ٹی ٹوئنٹی کپتان بننے کی شریس ایر کی خواہشات کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، اور اس کے پیچھے بھارتی کوچ گوتم گمبھیر کی اہم رائے ہے۔ کرک بلاگر کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایر کے نقطہ نظر اور ٹیم مینجمنٹ کے بعض حصوں کے درمیان اختلافات نے ان کے کپتانی کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسی دوران، ایک نیا نام سامنے آیا ہے: راجت پاٹیدار، جو اپنی کامیاب آئی پی ایل قیادت کے بعد ایک مضبوط دعویدار کے طور پر ابھرے ہیں۔ یہ صورتحال بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے لیے اہم فیصلے کی نشاندہی کرتی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کپتانی کی دوڑ میں نیا موڑ
سوریہ کمار یادو کی حالیہ بیٹنگ فارم میں گراوٹ کے بعد، سلیکٹرز ٹیم انڈیا کے اگلے ٹی ٹوئنٹی سائیکل کے لیے قیادت کے نئے آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بی سی سی آئی اور ٹیم مینجمنٹ مستقبل کے لیے کھیل کے ایک زیادہ جارحانہ انداز کو اپنا رہی ہے، ایک ایسا عنصر جس نے کپتانی کے کردار کے بارے میں جاری بحث کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب صرف کارکردگی ہی نہیں بلکہ قیادت کا انداز اور کھیل کے حکمت عملی پر بھی گہرا غور کیا جا رہا ہے۔ وہ ایسے کپتان کی تلاش میں ہیں جو میدان میں ٹیم کو نئی توانائی اور جارحانہ سوچ دے سکے۔
گوتم گمبھیر اور شریس ایر کے درمیان نظریاتی اختلاف
کرک بلاگر کے مطابق، بھارت کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر شریس ایر کو ٹی ٹوئنٹی کپتانی کے لیے مکمل طور پر حمایت کرنے پر قائل نہیں ہیں۔ گمبھیر کا ماننا ہے کہ ایر کا قیادت کا انداز اور میدان میں ان کا رویہ اس جارحانہ برانڈ کرکٹ سے پوری طرح میل نہیں کھاتا جو وہ آنے والے سالوں میں بھارتی ٹیم سے کھیلنا چاہتے ہیں۔ یہ صرف ذاتی پسند ناپسند کا معاملہ نہیں بلکہ کرکٹ کے فلسفے اور وژن کا فرق ہے جو مستقبل کی ٹیم کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گمبھیر، جو خود اپنے جارحانہ انداز کے لیے جانے جاتے ہیں، ایسے کپتان کو ترجیح دیتے ہیں جو میدان میں ہمیشہ آگے بڑھ کر کھیلنے کا جذبہ رکھتا ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے، “شریس ایر کا نام بھی بحث میں آیا ہے، تاہم، ڈویلپمنٹس سے واقف افراد کا خیال ہے کہ بھارتی کوچ ایسے ٹی ٹوئنٹی کپتان کی حمایت کرنے سے ہچکچا سکتے ہیں جسے وہ اپنے وژن اور طریقوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں سمجھتے۔” یہ واضح طور پر اشارہ کرتا ہے کہ کپتان اور کوچ کے درمیان ہم آہنگی کو بی سی سی آئی کی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھا جا رہا ہے۔ ایک متحد سوچ اور حکمت عملی ہی ٹیم کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے، اور گمبھیر اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
راجت پاٹیدار کا غیر متوقع عروج
اس صورتحال کے نتیجے میں، سلیکٹرز قیادت کے کردار کے لیے متعدد آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ جہاں گمبھیر سنجو سیمسن کو ایک ممکنہ کپتان کے طور پر حمایت کرنے پر تیار نظر آتے ہیں، وہیں ایشان کشن بھی بی سی سی آئی کے معاہدہ شدہ کھلاڑیوں کے پول میں واپسی کے بعد متاثر کن کارکردگی دکھا کر ایک مضبوط دعویدار کے طور پر ابھرے ہیں۔ تاہم، سب سے زیادہ حیران کن نام راجت پاٹیدار کا ہے، جو اب بھارتی ٹی ٹوئنٹی کپتانی کی بحث میں ایک سنجیدہ دعویدار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
راجت پاٹیدار نے رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کے ساتھ اپنی متاثر کن قیادت کے ریکارڈ کے بعد بھارتی ٹی ٹوئنٹی کپتانی کی بحث میں ایک سنجیدہ دعویدار کے طور پر خود کو منوایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، سلیکٹرز ان کی پرسکون شخصیت، حکمت عملی کی بیداری، اور دباؤ والے میچوں میں دباؤ کو سنبھالنے کی صلاحیت سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو ایک کامیاب کپتان کے لیے انتہائی ضروری سمجھی جاتی ہیں، خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی جیسے تیز فارمیٹ میں۔
آئی پی ایل میں پاٹیدار کی شاندار کامیابی
- پاٹیدار نے 2025 میں آر سی بی کو ان کا پہلا آئی پی ایل ٹائٹل دلوا کر اپنی ساکھ میں اضافہ کیا۔
- اس کے بعد انہوں نے 2026 میں فرنچائز کو کامیاب ٹائٹل دفاع کی طرف رہنمائی کی۔
- ان کی کپتانی میں، بنگلور آئی پی ایل کی تاریخ میں لگاتار دو چیمپئن شپ جیتنے والی تیسری ٹیم بنی، جو چنئی سپر کنگز اور ممبئی انڈینز کے ساتھ شامل ہو گئی۔ یہ ایک غیر معمولی کارنامہ ہے جو ان کی قیادت کی صلاحیتوں کو نمایاں کرتا ہے۔
33 سالہ پاٹیدار نے آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں بلے سے بھی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 41.75 کی اوسط سے 501 رنز بنائے اور دباؤ کی صورتحال میں کئی اہم اننگز کھیلیں۔ ان کی قیادت اور مستقل بیٹنگ نے بھارتی ٹی ٹوئنٹی سائیڈ کے ممکنہ مستقبل کے کپتان کے طور پر ان کے کیس کو مضبوط کیا ہے۔ ان کی پرسکون اور فیصلہ کن شخصیت میدان میں ٹیم کے لیے ایک ستون ثابت ہوتی ہے، اور سلیکٹرز ایسی مضبوط شخصیت کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔
شریس ایر کی ذاتی کارکردگی
شریس ایر نے پنجاب کنگز کے ساتھ آئی پی ایل 2026 کا سیزن متاثر کن انداز میں گزارا۔ انہوں نے 13 اننگز میں 55.33 کی اوسط اور 168.81 کے اسٹرائیک ریٹ سے 498 رنز بنائے، جس میں پانچ نصف سنچریاں اور ان کی پہلی آئی پی ایل سنچری شامل تھی۔ اس سیزن کے دوران انہوں نے 7,000 ٹی ٹوئنٹی رنز اور 4,000 آئی پی ایل رنز بھی مکمل کیے۔ یہ اعداد و شمار ان کی بلے بازی کی صلاحیت اور فارمیٹ میں ان کی مہارت کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
ایر خاص طور پر رن چیزز میں مؤثر رہے۔ ٹورنامنٹ کے پہلے نصف کے دوران، دوسری بیٹنگ کرتے ہوئے ان کی اوسط 91.3 رہی اور انہوں نے کئی میچ جیتنے والی اننگز کھیلیں، جن میں دہلی کیپیٹلز کے خلاف 36 گیندوں پر ناقابل شکست 71 رنز شامل تھے۔ یہ ان کی دباؤ میں کارکردگی دکھانے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پنجاب کنگز کے کپتان کے طور پر ایر کی جدوجہد
بطور کپتان، ایر نے پنجاب کنگز کو ایک چیلنجنگ مہم سے نکالا۔ ٹیم سات میچوں میں ناقابل شکست تھی اس سے پہلے کہ وہ چھ میچوں کی شکست کے سلسلے میں پھنس گئی۔ تاہم، ایر نے ایک لازمی جیتنے والے میچ میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف 51 گیندوں پر ناقابل شکست 101 رنز بنا کر جواب دیا تاکہ پی بی کے ایس کو مقابلے میں برقرار رکھا جا سکے۔ یہ ان کی لچک اور قیادت کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے مشکل وقت میں ٹیم کو حوصلہ دیا اور خود آگے بڑھ کر مثال قائم کی۔ تاہم، گوتم گمبھیر کا وژن صرف مشکل وقت میں پرفارم کرنے سے آگے ہے، وہ ایک مستقل جارحانہ انداز چاہتے ہیں جو ہر میچ میں نمایاں ہو۔
نتیجتاً، بھارتی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی کی دوڑ میں شریس ایر کے سامنے گوتم گمبھیر کی جانب سے کچھ رکاوٹیں کھڑی ہو گئی ہیں، جبکہ راجت پاٹیدار ایک مضبوط اور غیر متوقع دعویدار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سلیکٹرز کس کو بھارتی کرکٹ کے مستقبل کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کرتے ہیں، خاص طور پر جب کھیل کے ایک جارحانہ انداز کو ترجیح دی جا رہی ہو۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہوگا جو اگلے چند سالوں تک بھارتی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی سمت کا تعین کرے گا۔