Urgent meeting called for amid BBL chaos; ACA says merger has caused ‘anxiety’ – آسٹریلین کرکٹ میں بحران
بگ بیش لیگ میں نجکاری کے فیصلے پر آسٹریلین کرکٹ میں شدید بحران
آسٹریلین بگ بیش لیگ (BBL) اس وقت شدید انتظامی اور تنظیمی بحران کا شکار ہو چکی ہے، جس کے بعد آسٹریلیا کے بڑے کرکٹ بورڈز اور کھلاڑیوں کی ایسوسی ایشن کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اس افراتفری کے ماحول میں، Urgent meeting called for amid BBL chaos; ACA says merger has caused ‘anxiety’ کی بازگشت ہر طرف سنائی دے رہی ہے۔ کرکٹ وکٹوریہ کی جانب سے میلبورن اسٹارز اور میلبورن رینیگیڈز کے انضمام اور دوسری بگ بیش فرنچائز کے لائسنس کو نجی شعبے کو فروخت کرنے کے اعلان نے آسٹریلین کرکٹ میں ایک تلاطم برپا کر دیا ہے، جس پر کھلاڑیوں اور ریاستی ایسوسی ایشنز نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد آسٹریلیا بھر کے کرکٹ حلقوں میں بے یقینی اور افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا ہے جس نے بگ بیش لیگ کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
ریاستی کرکٹ بورڈز کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ
نیو ساؤتھ ویلز (NSW)، ساؤتھ آسٹریلیا اور کوئینز لینڈ نے کرکٹ آسٹریلیا (CA) سے جمعرات کے روز ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ہنگامی ملاقات کا مقصد کرکٹ وکٹوریہ کے اس حالیہ اور اچانک اعلان سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق، نیو ساؤتھ ویلز اس صورتحال پر سب سے زیادہ غصے میں ہے اور اس نے بدھ کے روز دیگر دو ریاستوں کے ساتھ ایک طویل ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں نجکاری کے معاملے پر ان کے مختلف خدشات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس گفتگو کے بعد ہی مشترکہ طور پر کرکٹ آسٹریلیا سے اس غیر شیڈول اجلاس کا مطالبہ کیا گیا۔
چنئی کے خفیہ دورے پر نیو ساؤتھ ویلز کی شدید ناراضگی
اس تنازع میں اس وقت مزید شدت آئی جب یہ بات سامنے آئی کہ نیو ساؤتھ ویلز کو کرکٹ آسٹریلیا اور چند مخصوص ریاستوں کے عہدیداروں کے چنئی (بھارت) کے خفیہ دورے کے بارے میں اندھیرے میں رکھا گیا۔ اس دورے میں کرکٹ آسٹریلیا، بی بی ایل، وکٹوریہ، ویسٹرن آسٹریلیا اور تسمانیہ کے اعلیٰ حکام شامل تھے، جنہوں نے وہاں بگ بیش لیگ کا ایک میچ منعقد کرنے اور ممکنہ سرمایہ کاروں سے بات چیت کرنے کے لیے ملاقاتیں کیں۔ یہ نجی سرمایہ کار ان ریاستوں کے کلبوں میں حصص خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جب کرکٹ آسٹریلیا ہائبرڈ نجکاری ماڈل کو آگے بڑھائے گا۔ نیو ساؤتھ ویلز کا ماننا ہے کہ انہیں اس اہم پیش رفت سے دور رکھنا مناسب نہیں تھا، کیونکہ وہ طویل عرصے سے بگ بیش لیگ کو بغیر کسی نجی سرمایہ کاری کے خود فنڈ کرنے کا متبادل منصوبہ پیش کر رہے ہیں، لیکن انہیں کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ واضح رہے کہ نیو ساؤتھ ویلز کے چیئرمین جان ناکس اور کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیرڈ کے درمیان 11 مئی کو ایک ملاقات ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد سے کوئی رسمی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
کھلاڑیوں کی تنظیم (ACA) کا سخت ردعمل اور تحفظات
آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن (ACA) کے چیف ایگزیکٹو پال مارش نے اس پورے معاملے پر سخت ترین موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ بگ بیش لیگ کی نجکاری کا فیصلہ آسٹریلین کرکٹ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہ فیصلہ کھیل کے طویل مدتی اور وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت آسٹریلین کرکٹ اس معاملے پر متحد نہیں ہے، اور اس کے نتیجے میں ہم کسی بھی متفقہ حل سے ابھی بہت دور ہیں۔
پال مارش نے مزید کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا، ریاستوں اور اے سی اے کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی یادداشت (MOU) کے تحت، کسی بھی بگ بیش کلب کی نجکاری کے لیے کھلاڑیوں کی ایسوسی ایشن کی منظوری لازمی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ کرکٹ آسٹریلیا اور اے سی اے کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے پر بات چیت جاری ہے، لیکن یہ ابھی حتمی مرحلے میں نہیں ہے اور اس طرح موجودہ سیزن کے لیے کسی بھی ٹیم کی نجکاری کی باتیں کرنا انتہائی قبل از وقت ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ وکٹوریہ کے انضمام کے فیصلے نے کھلاڑیوں کے اندر شدید بے چینی، شکوک و شبہات اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ کھلاڑی مسلسل اپنی تنظیم سے رابطے میں ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔
کرکٹ آسٹریلیا کی وضاحت: اب تک کچھ حتمی نہیں ہوا
دوسری جانب، بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد کرکٹ آسٹریلیا کے سی ای او ٹوڈ گرین برگ نے بھی ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بگ بیش لیگ میں نجی سرمایہ کاری کے امکانات پر ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کچھ بھی حتمی یا منظور نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کرکٹ وکٹوریہ کے ارادوں سے واقف ہیں، جس کا مقصد میلبورن میں دو ٹیموں کی موجودگی برقرار رکھنا ہے، لیکن نجی سرمایہ کاری کے لیے لیگ اور کلبوں کے ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں ناگزیر ہوں گی تاکہ آسٹریلین کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
کھلاڑیوں کے معاہدوں اور مستقبل کی صورتحال
اس انتظامی افراتفری کے باوجود، کرکٹ وکٹوریہ نے دونوں میلبورن کلبوں کے کھلاڑیوں سے رابطہ کر کے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے موجودہ معاہدے برقرار رہیں گے۔ میلبورن اسٹارز کے پاس 10 کنٹریکٹ یافتہ مرد کھلاڑی ہیں، جن میں گلین میکسویل اور مارکس اسٹونیس جیسے اسٹار کھلاڑی شامل ہیں، جبکہ خواتین کی ٹیم میں میگ لیننگ، اینابیل سدرلینڈ اور ماریزان کیپ شامل ہیں۔ یہ تمام کھلاڑی انضمام کے بعد بننے والی نئی ٹیم کا حصہ رہیں گے۔
اسی طرح میلبورن رینیگیڈز کے پاس 9 مرد کھلاڑی ہیں، جن میں اولی پیک اور جیک فریزر-میک گرک نمایاں ہیں، البتہ اسٹار اسپنر ایڈم زیمپا اب کسی نئے کلب کی تلاش میں ہیں۔ خواتین کی ٹیم میں سوفی مولینیو اور جارجیا ویرہم کے معاہدے محفوظ ہیں۔ تاہم، دونوں ٹیموں کے کوچز کا مستقبل تاحال غیر یقینی ہے، حالانکہ کیمرون وائٹ (رینیگیڈز) اور پیٹر مورز (اسٹارز) کے معاہدوں میں ابھی ایک سال باقی ہے۔ رینیگیڈز کی خواتین ٹیم کے پاس فی الحال کوئی کوچ نہیں ہے کیونکہ سائمن ہیلمٹ نے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ اینڈریو کرسٹی اسٹارز کے ساتھ معاہدے میں ہیں۔
انتظامی سطح پر بھی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جہاں رینیگیڈز کے طویل وقت سے جنرل مینیجر رہنے والے جیمز روزنگارٹن، جو فہرست سازی کے فیصلوں میں گہرے ملوث رہے ہیں، اب نئی ضم شدہ ٹیم کی قیادت سنبھالیں گے۔ دوسری جانب اسٹارز کے مینیجر میکس ایبٹ، جو اسٹارز کے ڈائریکٹر کرکٹ کے طور پر کلنٹ میک اور کوچ کے طور پر پیٹر مورز کی نگرانی کرتے تھے، انہیں اب رینیگیڈز کا نگران بنایا گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں آسٹریلین کرکٹ میں انتظامی غیر یقینی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
مستقبل کے اہم اجلاس اور فیصلے
آسٹریلین کرکٹ میں جاری اس کشیدگی کو ختم کرنے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے آنے والے چند ہفتے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔ ریاستوں کے چیف ایگزیکٹوز اگلے ہفتے میلبورن میں ایک اہم ملاقات کرنے جا رہے ہیں، جس کے بعد 15 جون کو تمام ریاستوں کے چیئرمینوں کا ایک بڑا اور فیصلہ کن اجلاس شیڈول ہے۔ ان اجلاسوں میں کرکٹ وکٹوریہ کے اس یکطرفہ فیصلے اور کرکٹ آسٹریلیا کی نجکاری کی پالیسیوں پر کھل کر بحث کی جائے گی۔ نیو ساؤتھ ویلز اور دیگر ریاستیں اس بات پر بضد ہیں کہ بگ بیش لیگ کی ساکھ اور کھلاڑیوں کے حقوق کو کسی بھی تجارتی مفاد کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے گا، اور ہر فیصلہ تمام شراکت داروں کی باہمی رضامندی اور کھیل کے بہترین مفاد میں ہونا چاہیے۔