Report

Dilara’s fastest fifty guides Bangladesh to victory over Netherlands – بنگلہ دیش کی تاریخی فتح

Avatar photo Nikhil Joshi · · 1 min read

بنگلہ دیشی خواتین کرکٹ ٹیم کا شاندار کم بیک

ایڈنبرگ میں کھیلے گئے خواتین کے ٹی 20 سہ ملکی ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیشی ٹیم نے ایک بار پھر اپنی شاندار صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ بارش سے متاثرہ اس انتہائی سنسنی خیز اور مختصر میچ میں بنگلہ دیش نے ہالینڈ (نیدرلینڈز) کو 13 رنز سے شکست دے کر ایونٹ میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کر لیا ہے۔ اس میچ میں بنگلہ دیشی ٹیم کی فتح کی سب سے بڑی وجہ نوجوان اوپنر دلارا اختر کی برق رفتار بلے بازی بنی، جنہوں نے ہالینڈ کے گیند بازوں کے خلاف جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔

بارش کی مداخلت اور میچ کا نیا فارمیٹ

ایڈنبرگ کا موسم ہمیشہ کی طرح غیر یقینی رہا اور میچ کے آغاز سے قبل ہی تیز بارش شروع ہو گئی۔ بارش کے طویل سلسلے کے بعد جب امپائرز نے گراؤنڈ کا معائنہ کیا تو کھیل کو فی ٹیم 8 اوورز تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اتنے مختصر فارمیٹ میں کسی بھی ٹیم کے لیے حکمت عملی بنانا اور اس پر عمل درآمد کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، کیونکہ بلے بازوں کے پاس وکٹ پر سیٹ ہونے کا وقت نہیں ہوتا اور انہیں پہلی ہی گیند سے جارحانہ انداز اپنانا پڑتا ہے۔ بنگلہ دیش نے اس چیلنج کو بخوشی قبول کیا اور ہالینڈ کو دباؤ میں لانے کے لیے ایک بہترین منصوبہ بندی کے تحت میدان میں قدم رکھا۔

دلارا اختر کی تاریخی اننگز اور ریکارڈ ساز کارکردگی

بنگلہ دیش نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 8 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 98 رنز کا بڑا مجموعہ بورڈ پر سجایا۔ اس شاندار اسکور کی بنیاد دلارا اختر نے رکھی۔ دلارا اختر نے صرف 26 گیندوں پر 51 رنز کی انتہائی جارحانہ اور دلکش اننگز کھیلی۔ اپنی اس اننگز کے دوران انہوں نے محض 22 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی، جو بنگلہ دیشی خواتین ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی بیٹر کی جانب سے بنائی گئی تیز ترین نصف سنچری ہے۔

دلارا اختر کی اس طوفانی اننگز میں 8 شاندار چوکے اور 2 فلک شگاف چھکے شامل تھے۔ انہوں نے ہالینڈ کے تمام گیند بازوں کو نشانہ بنایا اور گراؤنڈ کے چاروں طرف دلکش شاٹس کھیلے۔ دلارا اختر کی اس اننگز کی خاص بات ان کا نڈر انداز اور شاٹ سلیکشن تھا، جس نے حریف ٹیم کے فیلڈرز اور کپتان کو بے بس کر دیا۔

مضبوط شراکت داریاں اور بنگلہ دیش کا مستحکم آغاز

بنگلہ دیشی اننگز کا آغاز انتہائی دھماکہ خیز رہا۔ دلارا اختر اور ان کی ساتھی اوپنر جویریہ فردوس نے پہلی وکٹ کے لیے صرف 21 گیندوں پر 42 رنز کی برق رفتار شراکت داری قائم کی۔ جویریہ فردوس نے دلارا کا بھرپور ساتھ دیا اور سنگلز اور ڈبلز کے ذریعے اسٹرائیک روٹیٹ رکھی۔ اس کے بعد دلارا نے سوبھانا مستری کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کے لیے 40 رنز کی ایک اور تیز رفتار شراکت قائم کی، جس کی بدولت بنگلہ دیشی ٹیم 8 اوورز میں 98 رنز کے بڑے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔ ہالینڈ کی جانب سے وان ڈین راڈ نے 16 رنز دے کر 1 وکٹ حاصل کی، لیکن وہ بنگلہ دیشی رنز کی رفتار کو روکنے میں ناکام رہیں۔

ہالینڈ کی جوابی کارروائی اور دھواں دھار آغاز

99 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے نیدرلینڈز کی ٹیم نے بھی ہمت نہیں ہاری۔ پچھلے ہی ہفتے بنگلہ دیش کے خلاف اپنی پہلی تاریخی ٹی 20 فتح درج کرنے والی ہالینڈ کی ٹیم اعتماد سے بھرپور تھی۔ اوپنرز ہیدر سیگرز اور بابیٹ ڈی لیڈے نے اپنی ٹیم کو ایک شاندار اور طوفانی آغاز فراہم کیا۔ دونوں نے پہلی وکٹ کے لیے صرف 28 گیندوں پر 53 رنز کی تیز ترین شراکت داری قائم کی اور بنگلہ دیشی کیمپ میں ہلچل مچا دی۔

ہیدر سیگرز نے 15 گیندوں پر 21 رنز بنائے جبکہ بابیٹ ڈی لیڈے نے مزید جارحانہ انداز اپناتے ہوئے محض 14 گیندوں پر 30 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ نیدرلینڈز یہ ہدف آسانی سے حاصل کر لے گا، لیکن ٹی 20 کرکٹ میں ایک اوور ہی میچ کا پانسہ پلٹنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

فریحہ تریشنا اور ریتو مونی کی تباہ کن بولنگ

جب نیدرلینڈز کی ٹیم فتح کی طرف تیزی سے گامزن تھی، تو بنگلہ دیشی بولر فریحہ تریشنا نے پانچویں اوور میں شاندار واپسی کی۔ انہوں نے اپنے اس اوور میں دو اہم وکٹیں حاصل کر کے ہالینڈ کی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔ فریحہ تریشنا کی ان دو کامیابیوں نے نیدرلینڈز کے رنز بنانے کی رفتار کو بریک لگا دیا اور بنگلہ دیشی ٹیم کو میچ میں واپس لے آیا۔

اگرچہ روبین رائجیک نے 21 رنز کی ایک مختصر مگر تیز اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کی امیدیں برقرار رکھنے کی کوشش کی، لیکن آخری اوور میں ریتو مونی نے نیدرلینڈز کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ریتو مونی نے آٹھویں اوور میں نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے دو اہم وکٹیں حاصل کیں اور ہالینڈ کی ٹیم کو مقررہ 8 اوورز میں 5 وکٹوں پر 85 رنز تک محدود کر دیا۔ فریحہ تریشنا نے 20 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ریتو مونی نے بھی اپنی بہترین بولنگ سے فتح کو یقینی بنایا۔

ایک اہم اور نفسیاتی فتح

بنگلہ دیش کے لیے یہ فتح انتہائی اہم تھی، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ہالینڈ نے انہیں پچھلے میچ میں شکست دی تھی۔ اس کامیابی نے نہ صرف بنگلہ دیشی ٹیم کے حوصلے بلند کیے ہیں بلکہ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ دباؤ کے حالات میں ان کی ٹیم کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ دلارا اختر کی تیز ترین نصف سنچری اور بولرز کی آخری اوورز میں شاندار کارکردگی نے اس میچ کو تادیر یادگار بنا دیا ہے۔ اب دونوں ٹیمیں اگلے مقابلوں کے لیے مزید بہتر تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔