News

Solanki ‘would have liked to have gone one step further’ but still ‘immensely proud’ of GT

Avatar photo Nikhil Joshi · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: ایک جذباتی اختتام اور گجرات ٹائٹنز کا عزم

آئی پی ایل 2026 کے گرما گرم فائنل میں رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کے ہاتھوں شکست کے بعد، گجرات ٹائٹنز (GT) کے کیمپ میں مایوسی کے باوجود فخر کا احساس نمایاں ہے۔ ٹیم کے ڈائریکٹر آف کرکٹ، وکرم سولنکی نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم فائنل میں دوسرے نمبر پر رہی، لیکن انہوں نے اپنی ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

وکرم سولنکی کا موقف اور آر سی بی کو خراج تحسین

وکرم سولنکی نے پریس کانفرنس کے دوران انتہائی پیشہ ورانہ انداز اپنایا اور فاتح ٹیم آر سی بی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، “میں سب سے پہلے آر سی بی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ لیگ مرحلے میں ٹیبل پر سب سے اوپر رہے اور فائنل میں بھی ہمیں شکست دی۔” سولنکی نے مزید کہا کہ اگرچہ ٹیم ایک قدم مزید آگے جانا چاہتی تھی، لیکن فائنل تک کا سفر خود میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

تھکاوٹ اور سفر کی مشکلات پر ایک حقیقت پسندانہ نظر

کوالیفائر 1 میں شکست کے بعد، گجرات ٹائٹنز کے لیے فائنل تک پہنچنے کا راستہ کافی مشکل تھا۔ انہیں پانچ دنوں میں تین میچ کھیلنے پڑے اور احمد آباد پہنچنے میں بھی تاخیر ہوئی۔ تاہم، سولنکی نے اس صورتحال کو عذر کے طور پر استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرکٹ میں ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اور وہ موسم یا سفر کی مشکلات کا سہارا لے کر اپنی ٹیم کی ناکامی کو چھپانا نہیں چاہتے۔

ٹاپ آرڈر پر انحصار اور مڈل آرڈر کی بحث

میڈیا کی جانب سے شبمن گل، بی سائی سدرشن اور جوس بٹلر پر حد سے زیادہ انحصار کے سوالات پر سولنکی نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک فائنل کھیل کر آئے ہیں، اس لیے اس بحث کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ہمارے ٹاپ آرڈر نے پورے سیزن میں شاندار رنز بنائے ہیں اور ان کے اعداد و شمار سب کے سامنے ہیں۔”

حکمت عملی میں تبدیلی اور مستقبل کا لائحہ عمل

فائنل میں نیشانت سندھو کو تیسرے نمبر پر بھیجنے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے سولنکی نے اسے کوچ آشیش نہرا کا ایک ‘فیصلہ’ قرار دیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پچ کو پڑھنے میں شاید ٹیم سے ہلکی سی غلطی ہوئی، اور 200 سے زائد کا ہدف اس وکٹ پر ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق، 180 کے قریب کا اسکور ایک چیلنجنگ ٹوٹل ثابت ہو سکتا تھا۔

ویرات کوہلی کی شاندار اننگز

آخر میں، ویرات کوہلی کی تعریف کرتے ہوئے سولنکی نے کہا کہ اگرچہ وہ اس وقت خوش نہیں ہیں، لیکن ایک کرکٹ شائق اور ماہر کے طور پر وہ ویرات جیسے کھلاڑی کی شاندار بیٹنگ کو دیکھنا ہمیشہ ایک اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ویرات نے میچ کو بہت خوبصورتی سے سنبھالا اور اپنی ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچایا۔

گجرات ٹائٹنز کے لیے یہ سیزن ایک سبق آموز تجربہ رہا ہے۔ اگرچہ وہ ٹرافی اٹھانے میں ناکام رہے، لیکن ان کا سفر اور سولنکی کا مثبت رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ٹیم مستقبل میں مزید مضبوط ہو کر ابھرے گی۔